سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
بیوی کے منہ میں منہ ڈال كر لذت حاصل كرنا
  • 5448
  • تاریخ اشاعت : 2026-03-29
  • مشاہدات : 644

سوال

کیا اسلام میں بیوی کے منہ میں منہ ڈال كر لذت حاصل كرنا درست ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خاوند اپنی بیوی کے جسم سے جیسے چاہے لذت حاصل کر سکتا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ (223)

تمھاری عورتیں تمھارے لیے کھیتی ہیں، سو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ۔

 

1. خاوند اپنی بیوی کو ہونٹوں پر بوسہ دے سکتا ہے، ایسے ہی بیوی کی زبان چوسنا بھی جائز ہے۔

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے شادی کی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تم نےکیسی عورت سے شادی کی ہے؟ْ“  میں نے کہا: ایک بیوہ سے شادی کی ہے۔ آپ نے فرمایا:

مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا (‌صحيح البخاري، كِتَابُ النِّكَاحِ: 5080)

تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم کنواری لڑکیوں کے ساتھ اٹکھلیاں کرنے سے اجتناب کرتے ہو؟

امام ابن حجر رحمہ اللہ مذکورہ بالا حدیث کی شرح کرتےہوئے فرماتے ہیں:

وَلِعَابِهَا فَقَدْ ضَبَطَهُ الْأَكْثَرُ بِكَسْرِ اللَّامِ وَهُوَ مَصْدَرٌ مِنَ الْمُلَاعَبَةِ أَيْضًا يُقَالُ لَاعَبَ لِعَابًا وَمُلَاعَبَةً مِثْلُ قَاتَلَ قِتَالًا وَمُقَاتَلَةً وَوَقَعَ فِي رِوَايَةِ الْمُسْتَمْلِي بِضَمِّ اللَّامِ وَالْمُرَادُ بِهِ الرِّيقِ وَفِيهِ إِشَارَةٌ إِلَى مَصِّ لِسَانِهَا وَرَشْفِ شَفَتَيْهَا وَذَلِكَ يَقَعُ عِنْدَ الْمُلَاعَبَةِ وَالتَّقْبِيلِ

( فتح الباری از ابن حجر، جلد نمبر9، صفحہ نمبر122)

وَلِعَابِهَا کلمہ کو  اکثر محدثين نے لام کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے، اس طرح یہ "ملاعبه" کا مصدر ہوگا، جسکا معنی ہے کھیلنا، خوش طبعی کرنا۔ جبکہ مستملی کی روایت میں لام پر پیش کیساتھ بھی پڑھا گیا ہے، جسکا معنی آبِ دہن ، لُعاب ، چنانچہ اس میں اس بات کی طرف اشاره ہے کہ بیوی کی زبان اور ہونٹوں کو چوسنا و چومنا جائز ہے، اور یہ عمل بیوی کے ساتھ خوش طبعی اور بوس وكنار کرتے ہوئے ہوتا ہے۔

امام ابن قیم  رحمہ الله فرماتے ہیں:

ومما ينبغي تقديمه على الجماع ملاعبة المرأة، وتقبيلها، ومص لسانها

(زاد المعاد از ابن قیم،جلد نمبر4 ، صفحہ نمبر231)

جماع سے پہلے جن کاموں کا کرنا مناسب ہوتا ہے ان میں بوس وکنار، اور زبان چوسنا شامل ہے۔

لیکن شریعت نے درج ذيل امور حرام قرار دیے ہیں اس لیے یہ کرنے منع ہیں:

دبر میں جماع کرنا حرام ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا ) سنن أبي داؤد،كِتَابُ النِّكَاحِ:2162) (صحيح)

ملعون ہے وہ شخص جو بیوی سے دبر میں مباشرت کرتا ہے۔

 

حیض اور نفاس  کی حالت میں جماع کرنا حرام ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ (البقرة:222)

اور وہ تجھ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے وہ ایک طرح کی گندگی ہے، سو حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔

 

حج اور عمرے کے احرام کے دوران مباشرت کرنا حرام ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ (البقرة:197)

حج چند مہینے ہے، جو معلوم ہیں، پھر جو ان میں حج فرض کر لے تو حج کے دوران نہ کوئی شہوانی فعل ہو اور نہ کوئی نا فرمانی اور نہ کوئی جھگڑا۔

 

روزے کی حالت میں جماع حرام ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ لبقرة:187)

تمھارے لیے روزے کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لا نَعْلَمُ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ خِلَافًا , فِي أَنَّ مَنْ جَامَعَ فِي الْفَرْجِ فَأَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ , أَوْ دُونَ الْفَرْجِ فَأَنْزَلَ , أَنَّهُ يَفْسُدُ صَوْمُهُ إذَا كَانَ عَامِدًا , وَقَدْ دَلَّتْ الأَخْبَارُ الصَّحِيحَةُ عَلَى ذَلِكَ" (المغني4/372)

اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس شخص نے جان بوجھ کر (اپنی بیوی سے) شرمگاہ میں جماع کیا ، انزال ہوا یا نہیں ہوا ، یا اس نے شرمگاہ کے علاوہ (کسی طریقہ سے ) لذت حاصل کی اور انزال ہو گیا، اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتوی کمیٹی

تبصرے