سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
میرے شوہر نے اسٹام پیپر پر طلاقِ ثلاثہ بھیجی۔ اس سے پہلے ایک ٹیکسٹ میسج کے ذریعے بھیجی، تو کیا مکمل طلاق ہو گئی؟
  • 5441
  • تاریخ اشاعت : 2025-04-17
  • مشاہدات : 142

سوال

میرے شوہر نے اسٹام پیپر پر طلاقِ ثلاثہ بھیجی۔ اس سے پہلے ایک ٹیکسٹ میسج کے ذریعے بھیجی، تو کیا مکمل طلاق ہو گئی؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلام نے دو طلاقیں رجعی قرار دی  ہیں یعنی پہلی اور دوسری طلاق کے بعد انسان عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، اور اگر عدت ختم ہو جائے تو نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے، اس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے: 

ﱡالطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ﱠ. (البقرة: 229).

یہ طلاق (رجعی ) دو بار ہے، پھر یا تواچھے طریقے سے رکھ لینا ہے، یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔

 

تیسری طلاق کے بعد رجوع کا اختیار ختم ہو جاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡفَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﱠ (البقرة: 230).

پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دےتو (پہلے) دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں رجوع کر لیں، اگر سمجھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، وہ انہیں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہےجو جانتے ہیں۔

 

آپ کے خاوند نے پہلے ایک طلاق ٹیکسٹ میسج کے ذریعے بھیجی، تو ایک طلاق واقع ہو گئی ۔ اس نے پھر اسٹام پیپر کے ذریعہ اکٹھی تین طلاقیں بھیجیں، تو دوسری طلاق بھی واقع ہو گئی، کیونکہ اگر انسان  ایک وقت میں ایک سے زائد طلاقیں دے دے، تو وہ ایک ہی واقع ہوتی ہے۔ لہذا آپ کو دو طلاقیں ہو چکی ہیں۔ 

آپ کا خاوند  عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، اور اگر عدت ختم ہو جائے تو نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے، اس میں ولی ، گواہ، حق مہر اور عورت کی رضا مندی ضروری ہے۔

رجوع کرنے کے بعد آپ کے خاوند کے  پاس صرف تیسری اور آخری  طلاق کا حق رہ جائے گا۔ اگر اس نے آپ  کو تیسری طلاق بھی دے دی، تو اس  کے پاس رجوع کا اختیار نہیں ہو گا اور آپ اس سے جدا ہو جائیں گی۔

 

واضح رہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں اکٹھی تین طلاقیں دینا حرام ہے، ایسا کرنے والے کو اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگنا چاہیے۔

لیکن اگر کوئی انسان اکٹھی تین طلاقیں دے دے تو وہ ایک ہی شمار ہو گی  اور خاوند کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہے؛ کیوں کہ نکاح کے مضبوط بندھن کو شریعت نے  یک لخت ختم نہیں کیا، بلکہ  تین طلاق کا سلسلہ اور پھر ان میں سے پہلی دو کے بعد  سوچنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ گھر ٹوٹنے سے بچ جائے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: 

كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة. (صحيح مسلم، الطلاق: 1472).

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک  (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔

یاد رہے! وہ عورت جسے باقاعدگی سے ماہواری آتی ہے اس کی عدت تین حیض ہے، یعنی طلاق کے بعد اگر عورت کو تین مرتبہ حیض آ جائے اور وہ تیسرے حیض سے پاک ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔ 

ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡوَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ﱠ. (البقرة: 228).

اور وہ عورتیں جنہیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں۔

وہ عورت جس کو ماہواری آنا بند ہو گئی ہے، یا عمر کم ہونے کی وجہ سے ابھی آنا شروع ہی نہیں ہوئی، اس کی عدت تین قمری مہینے ہیں۔ 

ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡوَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ﱠ . (الطلاق: 4).

اور وہ عورتیں جوتمہاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہےاور ان کی بھی جنہیں حیض نہیں آیا۔

اگر عورت حاملہ ہو، تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ 

ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡوَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ﱠ. (الطلاق: 4).

اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ  وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔

 

رجوع کا طریقہ کار:

خاوند بول کر بھی رجوع کر سکتا ہے کہ اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہے کہ میں رجوع کرتا ہوں یا کسی دوسرے شخص کے  سامنے یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی، میں اس سے رجوع کرتا ہوں۔

اسی طرح اگر خاوند رجوع کی نیت سے اپنی بیوی سے قربت اختیار کرے تو بھی  رجوع ہو جائے گا۔ 

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے