سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
خطرناک مہم جوئی كا حكم
  • 5422
  • تاریخ اشاعت : 2025-03-26
  • مشاہدات : 121

سوال

خطرناک مہم جوئی جو جان لیوا ہو کے بارے میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اونچی اونچی  چوٹیاں سر کرنا  فضول اور بے مقصد کام ہے ۔ انسان اس فضول کام میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے۔ بے مقصد کام میں  اپنے مال کو ضائع کرتا ہے۔ اسلام خود کو ہلاکت میں ڈالنے اور فضول خرچی سے شدت کے ساتھ منع کرتا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: 195)
اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو۔
اور فرمایا:
وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (النساء: 29)
اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر ہمیشہ سے بے حد مہربان ہے۔
اور فرمایا:
وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (الأنعام: 141)
اور حد سے نہ گزرو، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔
اور فرمایا:
يَابَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (الأعراف : 31)
اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو اور کھائو اور پیو اور حد سے نہ گزرو، بے شک وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

اور فرمایا:
وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا (26) إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا (الإسراء: 27) 
اور رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو اور مت بے جا خرچ کر، بے جا خرچ کرنا۔ بے شک بے جا خرچ کرنے والے ہمیشہ سے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان ہمیشہ سے اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔

سيدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ تم مجھے ایسی بات لکھ کرارسال کرو جو تم نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو، انھوں نے جواباً لکھا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
 إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ (صحيح البخاري، كتاب الزكاة: 1477)
اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین چیزیں ناپسند کرتاہے:ادھراُدھر کی فضول باتیں کرنا، مال کو ضائع کرنا اور باکثرت سوال کرنا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے