سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

امام کے پیچھے مقتدیوں کو سلام کب پھیرنا چاہیے؟

  • 5408
  • تاریخ اشاعت : 2024-06-28
  • مشاہدات : 47

سوال

امام کے پیچھے مقتدیوں کو سلام کب پھیرنا چاہیے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سنت طریقہ یہ ہے کہ امام دونوں طرف سلام پھیرے ، پھر مقتدی دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیریں۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا (صحيح البخاري، الصلاة: 378)

امام تو اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہذا جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اسی طرح جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔

1. مندرجہ بالا حدیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کے تمام افعال میں متابعت کی جائے گی، تو جب وہ دونوں طرف سلام پھیر لے گا، پھر مقتدی دائیں اور بائیں طرف سلام پھیریں گے۔

2. لیکن اگر مقتدی امام کے دائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرنے کے بعد بائیں طرف سلام پھیر دے، تو اس کی نماز درست ہے ۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتوی کمیٹی

1- فضیلۃ الشیخ عبد الخالق صاحب حفظہ اللہ

2- فضیلۃ الشیخ اسحاق زاہد صاحب حفظہ اللہ

تبصرے