الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سوال میں مذکور صورت حال کے مطابق علی احمد کی وفات کے وقت اس کے دو حقیقی بھائیوں کی اولاد اور تین باپ شریک بھائی زندہ تھے۔ وراثت کی تقسیم درج ذیل طریقہ سے ہو گی:
نمبر شمار میت کے ورثاء جائیداد کی تقسیم سارے مال کے تین حصے کر لیے جائیں فیصد
1. دو حقیقی بھائیوں کی اولاد انہیں کچھ نہیں ملے گا _ %0.0
2. تین باپ شریک بھائی سارا مال تینوں باپ شریک بھائیوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے گا۔ ہر بھائی کا ایک حصہ %100.0
سارا مال تین باپ شریک بھائیوں کو ملے گا، بھتیجوں کو باپ شریک بھائیوں کی موجودگی میں کچھ نہیں ملے گا، اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَر (صحيح البخاري، الفرائض: 6732).
تم فرض حصے یعنی مقرر حصے ان کے حقداروں تک پہنچا دو اور جو باقی بچ جائے وہ میت کے قریب ترین مرد کے لیے ہے۔
باپ شریک بھائی بھتیجوں کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہیں، اس لیے وہ وارث بنیں گے اور بھتیجے محروم ہو جائیں گے۔
اگر حقیقی بھائیوں کی اولاد میں بھتیجیاں بھی ہیں تو وہ اولو الارحام میں سے ہیں، اور اولو الارحام عصبہ کی موجودگی میں وارث نہیں ہوتے، لہذا وہ بھی وارث نہیں بنیں گی۔
والله أعلم بالصواب.