الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بعض احادیث میں ذکر ہے کہ اگر انسان کے تین بچے جو بالغ نہیں ہوئے فوت ہوجائیں اور وه صبر كا مظاہرہ کرے اور اللہ تعالی سے اجر کی امید رکھے، تو روز قیامت یہ بچے اسے جنت میں لے جائیں گے۔
بعض احادیث میں دو بچوں کے حوالے سے بھی یہی بات مذکور ہے، حتی کہ بعض احادیث میں ایک بچے کے بارے میں بھی آتا ہے کہ وہ بھی انسان کو جنت میں لے جائے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ انسان صبر کا مظاہر ہ کرے اور اللہ تعالی سےاجر کی امید رکھے۔
بعض احاديث میں آتا ہے کہ نامکمل حمل بھی اپنی ماں کو کھینچ کر جنت میں لے جائے گا بشرطیکہ اس نے اس پر صبر کیا ہو۔
ذيل میں تمام احادیث درج کی جاتی ہیں:
سيدنا انس بن مالک رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاـ
مَا مِنْ النَّاسِ مُسْلِمٌ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ (صحيح البخاري، كتاب الجنائز: 1381)
لوگوں میں سے جس کسی مسلمان کے تین بچے مرجائیں جو بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور ایسا محض اس کی خاص رحمت کی بناء پر ہوگا جو وہ ان پر کرے گا۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو وعظ ونصحيت کرتے ہوئے فرمایا:
أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَ لَهَا ثَلاَثَةٌ مِنَ الوَلَدِ، كَانُوا حِجَابًا مِنَ النَّارِ»، قَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: «وَاثْنَانِ (صحيح البخاري، كتاب الجنائز: 1249)
جس عورت کے تین بچے مرجائیں وہ دوزخ کی آگ سے اس کے لیے رکاوٹ بن جائیں گے۔‘‘ ایک عورت نے کہا: دوبھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا:’’دو بھی(حجاب بنیں گے)۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ تَمَسُّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ (صحيح البخاري، كتاب الأيمان والنذور: 6656، صحيح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب: 2632)
جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم کو پورا کرنے کے لیے ایسا ہوگا۔
ابوحسان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا: میرے وہ بچے فوت ہو گئے ہیں، آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی کون سی حدیث سنا سکتے ہیں جس سے آپ ہمیں ہمارے فوت ہونے والوں کے متعلق ہمارے دلوں کی تسلی دلا سکیں؟ (ابوحسان نے) کہا: (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے) کہا: ہاں۔
(آپ ﷺ نے فرمایا:)
صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَتَلَقَّى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ قَالَ أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِثَوْبِهِ أَوْ قَالَ بِيَدِهِ كَمَا آخُذُ أَنَا بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا فَلَا يَتَنَاهَى أَوْ قَالَ فَلَا يَنْتَهِي حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب: 2635)
چھوٹے بچے جنت کے پانی کے کیڑے ہیں (وہ جنت کے اندر ہی رہتے ہیں) ان میں سے کوئی اپنے باپ ۔۔ یا فرمایا: اپنے ماں باپ ۔۔ کو ملے گا تو وہ اسے اس کے کپڑے سے پکڑ لے گا۔۔ یا کہا: اس کے ہاتھ سے ۔۔ جس طرح میں نے تمہارے اس کپڑے کے کنارے سے پکڑا ہوا ہے، پھر اس وقت تک نہیں ہٹے گا ۔۔ یا کہا: نہیں رکے گا ۔۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اور اس کے والد کو جنت میں داخل کر دے گا۔
حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ اثْنَانِ قَالَ أَوْ اثْنَانِ قَالُوا أَوْ وَاحِدٌ قَالَ أَوْ وَاحِدٌ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ (مسند أحمد: 22090) (صحيح)
جن دومسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہوجائیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل فرمادے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! اگر دوبچے ہوں تو؟ فرمایا ان کا بھی یہی حکم ہے انہوں نے پوچھا اگر ایک ہو تو ؟ فرمایا اس کا بھی یہی حکم ہے پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، نامکمل حمل بھی اپنی ماں کو کھینچ کر جنت میں لے جائے گا بشرطیکہ اس نے اس پر صبر کیا ہو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَا لِعَبْدِي المُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ، إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ، إِلَّا الجَنَّةُ (صحيح البخاري، كتاب الرقاق: 6424)
اللہ تعالیٰ فرماتاہے: میرے اس مومن بندے کے لیے میرے پاس جنت کے علاوہ اور کوئی بدلہ نہیں جس کی کوئی محبوب اور پیاری چیز میں دنیا سے قبض کر لوں اور وہ اس پر صبر کر کے ثواب کا طالب رہے۔
والله أعلم بالصواب.