الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بیوی کی ضروریات پوری کرنا مثلا کھانا، پینا، رہائش وغیرہ، یہ سب کچھ خاوند کے ذمہ واجب ہے، اگرچہ بیوی کے پاس اپنا مال بھی ہو، پھر بھی خاوند کے ذمہ اس كا نان ونفقہ واجب ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: 233)
اور وہ مرد جس کا بچہ ہے، اس کے ذمے معروف طریقے کے مطابق ان (عورتوں) کا کھانا اور ان کا کپڑا ہے۔
اور فرمایا:
لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا (الطلاق: 7)
لازم ہے کہ وسعت والا اپنی وسعت میں سے خرچ کرے اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کی جو اس نے اسے دیا ہے، عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی پیدا کر دے گا۔
اور فرمایا:
أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ (الطلاق: 6)
انھیں وہاں سے رہائش دو جہاں تم رہتے ہو، اپنی طاقت کے مطابق اور انھیں اس لیے تکلیف نہ دو کہ ان پر تنگی کرو۔
اس لیے خاوند نے اپنی بیوی كا جو نان ونفقہ ادا کیا ہے، اس كے اخراجات برداشت کیے ہیں، یا کوئی چیز اسے بطور تحفہ دی تھی، طلاق کے بعد اس كا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے۔
البتہ اگر بیوی نے اپنے خرچے سے علیحدہ خاوند سے قرض لیا ہے، تو اس کا مطالبہ خاوند کرسکتا ہے۔
والله أعلم بالصواب.