سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
طلاق کے بعد دلہن کا جہیز کس کی ملكيت ہو گا؟
  • 5327
  • تاریخ اشاعت : 2025-06-06
  • مشاہدات : 380

سوال

طلاق کے بعد دلہن کا جہیز کس کی ملكيت ہو گا؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جہیز کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ہے۔ احادیث میں اس مروّجہ جہیز کا کوئی ذکر نہیں۔ رسول اللّٰہﷺ کی متعدد ازواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی اپنے ساتھ جہیز لے کر نہیں آئی، اسی طرح رسول اللّٰہﷺ نے اپنی چار بیٹیوں میں سے کسی ایک بیٹی کو بھی قبل از نبوت اور بعد از نبوت جہیز نہیں دیا۔

 

البتہ تعاون، صلہ رحمی اور تحفے کے طور پر اپنی لڑکی کو شادی کے موقعے پر کچھ دینا جائز ہے۔

اسلام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی بڑی فضیلت ہے، اس طرح ایک دوسرے کو ہدیہ، تحفہ دینے کی بھی ترغیب ہے۔ اگر تعاون یا ہدیے کا معاملہ اپنے قریبی رشتے داروں کے ساتھ کیا جائے تو اس کوصلہ رحمی کہا جاتا ہے اور اس کی بھی بڑی تاکید ہے اور اس کو دگنے اَجر کا باعث بتلایا گیا ہے۔

اس اعتبار سے اپنی بچی کو،اگر وہ واقعی ضرورت مند ہے بطورِتحفہ کچھ دینا، بالکل جائز، بلکہ مستحسن اور پسندیدہ ہے۔لیکن درج ذیل باتیں ملحوظ رکھنی چاہئیں:

• اس کے لیے قرض لے کر زیر بار نہ ہوں۔

• نمائش اور رسم کے طور پر ایسا نہ کریں۔

• ضروریاتِ زندگی کی اس فراہمی میں شادی کے موقعے پر ضروریات کا جائزہ لیے بغیر تعاون کرنا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ شادی کے بعددیکھا جائے کہ اس گھر میں کن چیزوں کی ضرورت ہے اورلڑکے والے اُن کو مہیا کرنے سے واقعی قاصر ہیں، تواُ ن کو وہ اشیا مہیا کرنے میں حسبِ استطاعت ان سے تعاون کیا جائے لیکن حسب ذیل شرائط کے ساتھ:

• اس تعاون کو وراثت کا بدل سمجھ کر اسے وراثت سے محروم کرنے کی نيت نہ ہو۔

• بیک وقت تعاون کی استطاعت نہ ہو تو مختلف اوقات میں تعاون کردیا جائے۔

• اگر بچی کو گھریلو اشیاے ضرورت کی ضرورت نہ ہواور والدین صاحب استطاعت ہوں اور وہ بچی کو تحفہ دینا چاہتے ہوں تو داماد کی مالی پوزیشن کے مطابق اس کو ایسا تحفہ دیں جس سے اس کا مستقبل بہتر ہوسکے۔ مثلاً، اس کے پاس سرمائے کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ کاروباری مشکلات کا شکار ہے، اس کو نقد رقم کی صورت میں ہدیہ دے دیا جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار بہتر کر سکے، یا اُس کو پلاٹ لے دیا جائے تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنا مکان بنا سکے، اگر اس کے پاس مکان نہیں ہے یا وہ مشترکہ خاندان میں رہائش پذیر ہے اور وہاں جگہ کی تنگی ہے، ان دونوں صورتوں میں یہ پلاٹ، یا گھر کی تعمیر، یا کاروبار میں مالی تعاون میاں بیوی(بیٹی اور داماد) کے لیے ایسا بہترین تحفہ ہے جو صرف انہی کے نہیں بلکہ آئندہ نسل کے بھی کام آئے گا۔ نیزتعاون کی ایسی صورت ہے جس میں رسم، نمود ونمائش، بلا ضرورت زیر بار ہونے کی کار فرمائی نہیں بلکہ خیر خواہی اور تعاون کا صحیح جذبہ ہے جو عنداللّٰہ نہایت پسندیدہ ہے۔یہ جہیز نہیں بلکہ صلہ رحمی، تعاون اور خیرخواہی ہے۔

لڑکی کے والدین یا قریبی رشتے دار ہمارے معاشرے میں رائج جہیز کی رسم میں سامان اپنی بیٹی کو دیتے ہیں، اس لیے وہ سارا سامان لڑکی کی ملکیت ہوتا ہے۔

مذکورہ بالا تعاون اور صلہ رحمی کی جائز صورت میں بھی جو سامان لڑکی کو دیا جائے گا وہ اسی کی ملکیت ہو گا، البتہ جو چیز خاوند کو ہبہ یا تحفہ کےطور پر دی جائے گی وہ خاوند کی ملکیت ہو گی۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے