الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
واضح رہے کہ انسان اپنی بیوی کے سامنے اسے طلاق دے یا کسی دوسرے شخص کے سامنے، طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
آپ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، اس لیے اب آپ دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
ﱡفَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﱠ (البقرة: 230).
پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دے تو (پہلے شوہر اور بیوی) دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں رجوع کر لیں، اگر سمجھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، وہ انہیں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہےجو جانتے ہیں۔
والله أعلم بالصواب.