سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
كيا تين طلاقیں مکمل ہونے کے بعد میاں بیوی اکٹھے رہ سکتے ہیں؟
  • 5319
  • تاریخ اشاعت : 2025-08-24
  • مشاہدات : 304

سوال

میرا نام سید محمد علی ولد سید غلام رسول ہے۔ میں نے اپنی بیوی سیدہ قراۃ العین ولد سید غلام مصطفیٰ ترمذی کو پہلی طلاق 2012 میں دی۔ دوسری طلاق مئی 2023 میں دی۔ پھر میں نے تیسری بار اپنے دوست کو صوتی پیغام بھیجا کہ میں اپنی بیوی قراۃ العین کو طلاق دیتا ہوں اور یہ جملہ تین دفعہ دہرایا۔ کچھ وقت بعد میرے دوست نےمیرا وہ پیغام میری بیوی کو بھیج دیا۔ کیا ہماری طلاق ہو گئی ہے یا گنجائش ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ  انسان اپنی بیوی کے سامنے اسے طلاق دے یا کسی دوسرے شخص کے سامنے، طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

آپ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں،  اس لیے اب آپ دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﱠ (البقرة: 230).

پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دے تو (پہلے شوہر اور بیوی) دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں رجوع کر لیں، اگر سمجھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، وہ انہیں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہےجو جانتے ہیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے