سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اگر میں اپنے سسرال كے گھر گیا، تو میری بیوی کو سات طلاقیں
  • 5303
  • تاریخ اشاعت : 2025-11-06
  • مشاہدات : 600

سوال

اگر کوئی شخص غصے کی حالت میں یہ کہے کہ میں دوباره كبھی بھی اپنے سسرال کے گھر نہیں جاؤں گا۔ اگر میں اپنے سسرال كے گھر گیا، تو میری بیوی کو سات طلاقیں۔ اب اسے اپنی اس بات پر پچھتاوا ہے، کیا اس قسم کا کفارہ ہوگا؟ کیا وہ دوبارہ اپنے سسرال جا سکتا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر اس جملے ’’ اگر میں کبھی اپنے سسرال کے گھر  گیا تو میری بیوی کو سات (7)  طلاقیں‘‘ سے خاوند کا مقصود طلاق دینا تھا،  تو جب وہ  سسرال کے گھر جائے گا، اس کی بیوی کو ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

امام ابن تيمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

أن يكون قصد إيقاع الطلاق عند الصفة. فهذا يقع به الطلاق إذا وجدت الصفة كما يقع المنجز عند عامة السلف والخلف (مجموع الفتاوى از ابن تيميه: جلد نمبر 33، صفحه نمبر 46)

اس (خاوند)  کا ارادہ  صفت کے وقت طلاق دینے کا ہو، تو سلف اور خلف كے تمام علماء کرام کے ہاں، جب بھی صفت پائی جائے گی، طلاق واقع  ہو جائے گی، جیسا کہ موقع پر دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

ابن حزم رحمہ اللہ نے اس طلاق کے واقع ہونے  پر علماء كرام كا اجماع نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

وَاتَّفَقُوا أَن الطَّلَاق إلى أجل أَو بِصفة وَاقع ان وَافق وَقت طَلَاق (مراتب الإجماع از ابن حزم، صفحه نمبر72)

علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ طلاق جس کو وقت يا كسی صفت کےساتھ  معلق کیا گيا ہو، واقع ہو جاتی ہے اگر وہ وقت  طلاق کے مطابق ہو۔

اس صورت میں صرف ایک طلاق اس لیے واقع ہو گی کیونکہ ایک وقت میں ایک سے زائد دی گئی طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة. (صحيح مسلم، الطلاق: 1472).

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک  (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔

 

1. اگر خاوند کا مذکورہ بالا جملے سے بيوی کو طلاق دینا مقصد نہیں تھا، بلکہ خود کو سسرال کے گھر جانے سے روکنے كا ارادہ تھا،  تواس کا حکم قسم والا ہو گا وہ قسم کا کفارہ ادا  کر دے، اور اپنے سسرال کے گھر جا سکتا ہے، اس کی بیوی کو کوئی طلاق نہیں ہوگی، كيونكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى (صحيح البخاري، بدء الوحي: 1، صحيح مسلم، الإمارة: 1907)

اعمال کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو اس کی نیت ہی کے مطابق پھل ملے گا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے