الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
رمضان المبارک میں باجماعت تراویح پڑھنا سنت مؤکدہ اور اسلام کے شعائر میں سے ہے۔ بہت سی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تراویح پڑھنے کی ترغیب فرمائی ہے۔
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے صحابہ كرام رضوان اللہ علیہم اجمعین كو مسلسل تين راتيں تراويح پڑھائیں، چوتھى رات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوئے لیکن آپ نے تراویح نہیں پڑھائىں اور فرمايا:
خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا (صحيح مسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها: 761)
مجھے يہ خوف ہوا كہ کہیں تم پر رات كى نماز فرض نہ كر دى جائے اور تم اس كى ادائيگى سے عاجز آجاؤ۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ (سنن أبي داود، كتاب تفريع أبواب شهر رمضان:1375، سنن نسائي، كتاب السهو: 1364) (صحيح)
جب کوئی شخص امام کے ساتھ نماز پڑھے اور امام کے واپس جانے تک ساتھ رہے تو اس کےلیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے۔
1. لہذا باجماعت تراویح پڑھنا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس خدشہ كے پيش نظر اس عمل کو مسلسل نہیں كيا كہ كہيں يہ امت پر فرض نہ ہو جائے۔
جب سیدنا عمر رضى اللہ تعالى عنہ كا دور خلافت آيا تو وہ رمضان المبارک کی ایک رات مسجد میں گئے تو دیکھا کہ کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا ہے اور کوئی چند لوگوں کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ رہا ہے، چونکہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم کی وفات کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور رات کی نماز کے فرض ہونے کا خدشہ ختم ہو گیا تھا- تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھ کر تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کرنے کی غرض سےسیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کا امام مقرر کردیا۔ (صحیح البخاري، كتاب صلاة التراويح: 2010)
1. سیدنا عمر رضى اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر ہی عمل درآمد کروایا اور اسے زندہ کیا ہے۔
کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہم سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ خلاف سنت کام کریں گے؟!
اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خلاف سنت کام کیا ہوتا تو کیا تمام صحابہ کرام خاموش رہتے؟!
والله أعلم بالصواب.