سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

كيا كافر كو زكاة دی جا سکتی ہے؟

  • 5287
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-27
  • مشاہدات : 205

سوال

كيا كافر كو زكاة دی جا سکتی ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

زکاۃ کا مال کسی غیرمسلم کو دینا جائزنہیں ہے۔

سيدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سيدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کیا تو فرمایا:

ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ (صحيح البخاري، الزكاة: 1395، صحيح مسلم، الإيمان: 19)

سب سے پہلے اہل یمن کو اس بات کی دعوت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اورمیں اللہ کا رسول ہوں۔ اگروہ یہ بات مان لیں تو ان سے کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے شب و روز میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگروہ اس بات کو بھی تسلیم کر لیں توانھیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے مال کا صدقہ بھی فرض کیا ہے جو ان کے اہل قدرت سے وصول کر کے ان کے محتاجوں پر صرف کیا جائے گا۔

 

1. مذکورہ بالا حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ زکاۃ مسلمانوں سے وصول کر کے مسلمان فقراء ومساکین میں ہی تقسیم کی جائے گی۔

1. امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لَا نَعْلَمُ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ خِلَافًا فِي أَنَّ زَكَاةَ الْأَمْوَالِ لَا تُعْطَى لِكَافِرٍ (المغنی از ابن قدامہ: جلد نمبر 2، صفحہ نمبر 487)

 علماء کا اس بات پراجماع ہے کہ زکاۃ کا مال کافر کو نہیں دیا جائے گا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتوی کمیٹی

1- فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

تبصرے