سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نماز عيد كے بعد ایک دوسرے کو مبارک باد ینا اور گلے ملنا
  • 5274
  • تاریخ اشاعت : 2025-02-18
  • مشاہدات : 221

سوال

آج کل عید کے موقع پر لو گ ایک دوسرے کو مبارک باد یتے ہے اور گلے ملتے ہیں، کیا یہ مسنون طریقہ کیا ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحابہ كرام رضی اللہ عنہم ايك دوسرے كو عيد كى مبارك باد ديتے ہوئے ’’تقبل الله منا ومنك‘‘ (اللہ تعالی ہم سب کی (عبادت) قبول فرما لے) كہا کرتے تھے۔ (  فتح الباری از ابن حجر، جلد 2، ص 446)

حضرت قتادہ فرماتے ہیں  کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی ﷺ کے صحابہ کرام میں مصافحہ (کرنے کا دستور) تھا؟ انہوں نے فرمایا: جی  ہاں (صحیح البخاری، کتاب الاستئذان: 6263)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إذا تلاقوا تصافحوا ، وإذا قدموا من سفر تعانقوا (السلسلة الصحيحة، جلد1، ص 301)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم جب ايك دوسرے كو ملتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے۔

1. اس ليے عيد كى مبارك باد دينا جائز ہے اور اس كے ليے كوئى الفاظ مخصوص نہيں ہیں، بلكہ لوگ جن الفاظ كے ساتھ ایک دوسرے کو مبارک باد  دیتے ہوں وہی کہے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح نماز عید کے بعد  ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے اور گلے ملنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، كيونكہ لوگ اسے بطورعبادت اور اللہ تعالى كا قرب سمجھ كر نہيں كرتے، بلكہ  ايك عادت کے طور پر اور دوسروں کو عزت و احترام  دينے کی غرض سے کرتے ہیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے