سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
ہمبستری کے آداب
  • 5266
  • تاریخ اشاعت : 2025-03-29
  • مشاہدات : 476

سوال

اسلام نے بیوی سے ہمبستری کرنے کے کیا آداب بیان کیے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

خاوند اپنی بیوی کے جسم سے جیسے چاہے لذت حاصل کر سکتا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ (223)

تمھاری عورتیں تمھارے لیے کھیتی ہیں، سو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ۔

 

امام ابن قیم  رحمہ الله فرماتے ہیں:

ومما ينبغي تقديمه على الجماع ملاعبة المرأة، وتقبيلها، ومص لسانها

(زاد المعاد از ابن قیم،جلد نمبر4 ، صفحہ نمبر231)

جماع سے پہلے جن کاموں کا کرنا مناسب ہوتا ہے ان میں بوس وکنار، اور زبان چوسنا شامل ہے۔

 

لیکن شریعت نے درج ذيل امور  حرام قرار دیے ہیں اس لیے یہ کرنے منع ہیں:

دبر میں جماع کرنا حرام ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا ) سنن أبي داؤد،كِتَابُ النِّكَاحِ:2162) (صحيح)

ملعون ہے وہ شخص جو بیوی سے دبر میں مباشرت کرتا ہے۔

 

حیض اور نفاس  کی حالت میں جماع کرنا حرام ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ (البقرة:222)

اور وہ تجھ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے وہ ایک طرح کی گندگی ہے، سو حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں۔

حج اور عمرے کے احرام کے دوران مباشرت کرنا حرام ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ (البقرة:197)

حج چند مہینے ہے، جو معلوم ہیں، پھر جو ان میں حج فرض کر لے تو حج کے دوران نہ کوئی شہوانی فعل ہو اور نہ کوئی نا فرمانی اور نہ کوئی جھگڑا۔

 

روزے کی حالت میں جماع حرام ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ لبقرة:187)

تمھارے لیے روزے کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کر دیا گیا ہے، وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لا نَعْلَمُ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ خِلَافًا , فِي أَنَّ مَنْ جَامَعَ فِي الْفَرْجِ فَأَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ , أَوْ دُونَ الْفَرْجِ فَأَنْزَلَ , أَنَّهُ يَفْسُدُ صَوْمُهُ إذَا كَانَ عَامِدًا , وَقَدْ دَلَّتْ الأَخْبَارُ الصَّحِيحَةُ عَلَى ذَلِكَ" (المغني4/372)

اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس شخص نے جان بوجھ کر (اپنی بیوی سے) شرمگاہ میں جماع کیا ، انزال ہوا یا نہیں ہوا ، یا اس نے شرمگاہ کے علاوہ (کسی طریقہ سے ) لذت حاصل کی اور انزال ہو گیا، اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتوی کمیٹی

 

 

تبصرے