سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

نماز میں سستی کرنا

  • 5243
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-15
  • مشاہدات : 143

سوال

میں نے سنا ہے کہ جب آدمی سويا ہوا فجر کی اذان سن كر اپنی کروٹ بدل كر سو جائے تو اس كا عمل ایسے ہے کہ گویا اس نے شرک کیا، کیا یہ صحیح حدیث میں ثابت ہے اور آپ سے درخواست ہے کہ ہمیں شرک کی اقسام سے آگاه فرمائیں۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی کوئی حدیث ہمارے علم میں نہیں ہے کہ جو آدمی فجرکی اذان سن کرکروٹ بدل کرسو جائے اس نے شرک کیا، لیکن نماز نہ پڑھنا یا اس کی ادائیگی میں سستی کرنا بہت بڑا جرم ہے، بلکہ جو شخص اس بات کا اقرارکرتا ہے کہ نماز واجب ہے لیکن نماز پڑھتا نہیں ہے، ایسا آدمی یقینا فاسق وفاجراورکبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا ہے اور بعض علماء نے ایسے شخص کو کافربھی قراردیا ہے، مالکی اورشافعی علماء کرام فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کو نماز پڑھنے کا کہا جائے گا، اور ڈرایا جائے گا کہ اگر تو نے نماز نہ پڑھی تو ہم تجھے قتل کر دیں گے، تین دن تک اس کے ساتھ یہ رویہ اختیارکیا جائے گا کہ ہر نماز کے وقت اسے نماز کا کہا جائے گا اور نہ پڑھنے پر قتل کی دھمکی دی جائے گی، اگر پھر بھی وہ نماز نہیں پڑھتا تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ (المغنی: جلد نمبر 2،صفحہ نمبر: 329-330).

سیدنا جابررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: 
إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاة. (صحیح مسلم، الإيمان: 82).
یقینا آدمی اور شرک، کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے۔
عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ. (سنن ترمذي، الإيمان: 2622) (صحيح).
 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نماز کے علاوہ کسی عمل کے نہ کرنے پر کفر کا فتوی نہیں لگاتے تھے۔
بےنمازی  کو قتل کرنے کی دلیل ارشاد باری تعالی ہے:
ﱡفَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْﱠ. (التوبة:5).
پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرواور انہیں پکڑو اورانہیں گھیرواور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں زکاۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ 
مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالی نے مشرکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اورذکر کیا ہے کہ اگر وہ توبہ کر لیں تو پھر قتل سے بچ سکتے ہیں،اور توبہ اسلام قبول کرنے، نماز پڑھنےاورزکاۃ ادا کرنے کے ساتھ ہوگی، اگر وہ نماز نہیں پڑھتا تو اس نے صحیح طریقے سے توبہ نہیں کی اور قتل سے بچنے کی شرط کو پورا نہیں کیا لہذا اسے قتل کیا جائے گا۔
شيخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس حوالے سے رقمطراز ہیں:
اگرکوئی شخص نماز كا اقراراوراس كى فرضيت كا اعتقاد ركھتا ہے تو يہ ممكن ہى نہيں كہ وہ قتل ہونے تك ترك نماز پر اصرار كرے، اسلامی تاریخ ميں ایسا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا، یعنی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی شخص کو كہا جائےكہ اگرتم نے نمازادا نہ كى تو تمہيں قتل كر ديا جائيگا، اوروہ نماز كى فرضيت كا اعتقاد ركھتے ہوئے ترك نماز پر اصرار كرے، ايسا اسلامی تاریخ  ميں كبھى نہيں ہوا۔ جب کوئی شخص اس حد تک چلا جائے کہ اسے قتل کردیا جانا منظور ہو لیکن نمازپڑھنا منظورنہیں، تو وہ حقیقت میں باطنی طور پر نماز کی فرضیت کو مانتا ہی نہیں ہےاور اس کے کافر ہونے پر مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ اوراس حوالہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے متعدد آثار موجود ہیں۔ (بتصرف یسیر)
(مجموع الفتاوى از ابن تيميہ، جلد نمبر: 22 ،  صفحہ نمبر: 47 - 49 )
شرک اور اس کی اقسام:
اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی عبادت، افعال اوراسماء وصفات میں کسی کو شریک بنانا شرک ہے۔
عبادت میں شرک: 
کسی ولی یا بزرگ کو مصیبت کے وقت پکارنا، جبسے یا علی مدد، یا غوث پاک مدد وغیرہ کہنا شرک ہے؛ کیوں کہ مصیبت زدوں کی مدد کرنے والا صرف اللہ ہے ۔ کسی پیر یا ولی کے نام پر جانورذبح کرنا بھی شرک ہے، کسی بزرگ  کےدربار پرجا کر اس کی عبادت بجالاتے ہوئے رکوع وسجود کرنا شرک ہے؛ کیوں کہ ذبح کرنا اور رکوع وسجود کرنا عبادت ہے، اور عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالی ہے، اسی طرح کسی بھی عبادت کو غیراللہ کے لیے کرنا شرک ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ﱡوَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَوَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌﱠ. (الأنعام: 17).
اوراگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اوراگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہرچیز پر پوری طرح قادرہے۔
اور فرمایا:
ﱡقُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‎ لَا شَرِيكَ لَهُﱠ. (الأنعام:162-163).
کہہ دو! بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کےلیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ.(صحيح مسلم، الأضاحي: 1978).
 ایسے شخص پراللہ تعالی کی لعنت ہے جو غیراللہ کے نام پر ذبح کرتا ہے۔
افعال میں شرک: 
یہ نظریہ رکھنا کہ فلاں پیر صاحب آندھی باندھ دیتے ہیں، شرک ہے، کسی بزرگ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ اولاد دیتا ہے ،یا رزق دینے والا ہے شرک ہے کیونکہ اولاد عطا کرنے والا رزق دینے والا صرف اور صرف اللہ ہے۔ 
ارشاد باری تعالیٰ ہے :  
ﱡلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌﱠ (الشورى: 49-50).
آسمانوں اورزمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہےاور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے یا انہیں ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہےاور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، یقنیا وہ سب کچھ جاننے والا ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
اور فرمایا:
ﱡإِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُﱠ. (الذاریات: 58).
بے شک اللہ ہی بے حد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے‘‘۔
اسماء وصفات میں شرک:
اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، جیسے: الرحمن، الکریم، السمیع، اللطیف وغیرہ،  ہر نام میں صفتی معنی بھی پائے جاتے ہیں، جیسے: الرحمن اللہ تعالی کی صفت رحمت پر دلالت کرتا ہے، الغفور اللہ تعالی کانام ہے، اس میں اللہ تعالی کی صفت ’’بخشنے والا‘‘ کا ذکر ہے، اسی طرح اللہ تعالی کا ہر نام صفت پر بھی مشتمل ہوتا ہے۔ 
جو نام اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہیں ویسا کسی کا نام رکھنا شرک ہے، ایسے ہی جو صفت صرف اللہ تعالی کی ہے اگرکوئی انسان ویسی ہی صفت کسی مخلوق میں ثابت کرے تو یہ بھی شرک ہے۔ جیسے: کسی نیک آدمی کے بارے میں یہ نظریہ رکھنا کہ وہ غیب جانتا ہے، شرک ہے۔ فلاں پیر صاحب ہر وقت ہر کسی کی سنتے ہیں، شرک ہے۔ کسی کو گنج بخش، داتا، غریب نواز کہنا شرک ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ﱡقُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ  وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ﱠ. (النمل: 65).
کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اورزمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔
اور فرمایا:
ﱡلَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ﱠ. (الشوری: 11).
اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ 
تفصیل کے ساتھ شرک کا معنی و مفہوم جاننے کے لیے شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ ناصر رحمانی صاحب حفظہ اللہ تعالی کی کتاب ’’توحید اور شرکیہ امور کا تفصیلی بیان‘‘ کا مطالعہ بے حد مفید رہے گا۔ 

والله أعلم بالصواب.

ماخذ:محدث فتویٰ کمیٹی