سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

كرنسی ایکسچینج کا کاروبار کرنے کا حکم

  • 5204
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-23
  • مشاہدات : 116

سوال

ہمارے رشتے دار دبئی میں رہتے ہیں وہ کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کرتے ہیں یعنی (وہ بینک اکاؤنٹس کے ذریعے روپے میں پاکستان رقم بھیجتے ہیں اور مقررہ وقت کے بعد طے شدہ ریٹ پر دبئی میں درہم حاصل کرتے ہیں) میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہم ان کے ساتھ سرمایہ کاری کرسكتے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

كرنسى كى تجارت كرنى جائزہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبا (البقرة: 275)

اللہ تعالی نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا ہے۔

 ليكن اس ميں ايك شرط ہے كہ مجلس عقد ميں ہى كرنسى اپنے قبضہ ميں كرنا ہوگى، تو اس طرح روپیہ درہم كے ساتھ اس شرط پرفروخت ہوسكتا ہے جب اسی مجلس میں ہی كرنسى ايك دوسرے كے سپرد كردى جائے۔

ليكن اگر كرنسى ايك ہى ملك كى ہومثلا ايك روپے كو دوروپے كے بدلے فروخت كيا جائےتو يہ جائزنہيں ہوگا كيونكہ يہ ربا الفضل( زيادہ سود ) كى قسم ميں شامل ہوتا ہے، كيونکہ جب كرنسى ايك ہوتو پھرمجلس ميں ہى قبضہ ميں لينا اوربرابرہونا ضروری ہے۔

سيدنا عبادہ بن صامت رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ ) (صحيح مسلم، المساقاة: 1587).

سونے کےعوض سونا، چاندی کےعوض چاندی، گندم کےعوض گندم، جو کےعوض جو، کھجور کےعوض کھجور اورنمک کےعوض نمک (کا لین دین) مثل بمثل، یکساں، برابر برابراور نقد بنقد ہے۔ جب اصناف مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیع کرو بشرطیکہ وہ دست بدست ہو۔

 ایک ملک کی کرنسی کا دوسرے ملک کی کرنسی سے تبادلہ کرنا ایسے ہی ہے جیسا سونے کا تبادلہ چاندی سے کرنا، اس لیے ضروری ہے کہ تبادلہ کرتے وقت فورا اسی مجلس میں دونوں ملکوں کی کرنسی ایک دوسرے کے حوالے کر دی جائے۔

 کسی کے بنک میں رقم منتقل کردینا اس کے حوالے کرنے کی ہی طرح ہے۔

 اگر مذکورہ بالا شرطیں پائی جا رہی ہے تو یہ کاروبارحلال ہوگا اورآپ اس میں شراکت داری کر سکتے ہیں۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتوی کمیٹی

01. فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

02. فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

03. فضیلۃ الشیخ عبد الخالق حفظہ اللہ

04. فضیلۃ الشیخ اسحاق زاہد حفظہ اللہ 

ماخذ:محدث فتویٰ کمیٹی