سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

غیر مسلم کا اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمان عورت سے شاد ی کرنا

  • 5133
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 110

سوال

میں نے بیٹی کی شادی انیس سال کی عمر میں کینیڈا آتے ہی کردی تھی۔ لڑکا بیوی کی کزن کا بیٹا تھا۔ لڑکے کے ماں باپ نے شادی کے فوری بعد ہی بیٹے کا سارا بوجھ میری بیٹی پر ڈال دیا اور زیادتی کی کاروائیاں شروع ہوگئیں۔ پندرہ سال بعد لڑکا کسی کرائے کی عورت کے ساتھ زنا کے نتیجے میں جنسی بیماری میں مبتلا ہوا تو بھید کھلا کہ بازاری عورتوں کے ساتھ ملوث ہے۔ میری بیٹی نے پانچ سال پہلے علیحدگی لے لی اور دونوں بچے خود پال رہی ہے جو کہ چودہ سال اور دس سال کے بیٹے ہیں۔ بیٹی کی عمر اب چالیس سال ہے اور بچے جوان ہوکر دو چار سال میں اپنی راہ لیں گے اس لئے وہ دوسری شادی کا سوچ رہی ہے۔ انتخاب اب اک کرسچن پولیس آفیسر ہے جس نے پانچ سال ہراسیمگی میں مدد کی ، وہ دل و جان سے مسلمان ہونے کو تیار ہے تفصیل کا مقصد پیش منظر بتانا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان عورت ایک غیر مسلم کو مسلمان کرکے نکاح کرسکتی ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ اللہ تعالی کا انسان پر بہت بڑا فضل اوراحسان ہوتا ہے کہ اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دے، جب اللہ تعالی کسی سے خیر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاء (الأنعام: 125)

تو وہ شخص جسےاللہ تعالی چاہتا کہ اسے ہدایت دے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہےاور جسے چاہتا ہےکہ اسے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ، نہایت گھٹا ہوا کر دیتا ہے، گویا وہ مشکل سے آسمان میں چڑھ رہا ہے۔

چند ایسے واقعات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے بھی ثابت ہیں،جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (میری والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان دونوں کے درمیان (ابو طلحہ کا) اسلام لانا ہی حق مہر قرار پایا۔ (دراصل) ام سلیم رضی اللہ عنہاابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے پہلے مسلمان ہوگئی تھیں۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا تو وہ کہنے لگی: میں تو مسلمان ہوچکی ہوں اگر تم بھی مسلمان ہوجاؤ تو میں تم سے نکاح کرلوں گی۔ تب وہ مسلمان ہوگئے۔ چنانچہ وہی (ان کا مسلمان ہونا ہی) ان دونوں کے درمیان حق مہر مقرر ہوا۔  ( سنن نسائي، النكاح:3340) ( صحيح)

اس سوال کے دوپہلو ہیں :

01. اللہ تعالی کے ہاں انسان کا اسلام لانا اسی صورت قبول ہوگا جب وہ صدق دل کے ساتھ کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرے۔ 

سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْه  صحيح البخاري، بدء الوحي: 

اعمال کا مدارنیتوں پرہے اورہرآدمی کواس کی نیت ہی کے مطابق پھل ملے گا، پھر جس شخص نے دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی رچانے کے لیے وطن چھوڑا تو اس کی ہجرت اسی کام کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔

02.ا س پرظاہری اعتبار سے اسلامی احکام کا لاگو ہونا۔

اگركوئی شخص کلمہ پڑھ اسلام قبول كرلے اورظاہری طورپرشعائراسلام پرعمل بھی کرے اورکوئی کفریہ کام نہ کرےتواس کے ساتھ مسلمانوں والا معاملہ برتاؤ کیا جائے گا، اس کی كسی مسلمان لڑکی سے شادی بھی ہوسکتی ہے، اس لیے کہ ہمیں لوگوں کے ساتھ ان کے ظاہری حالات کے مطابق معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنِّي لَمْ أُؤمَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ وَلا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ   (صحيح البخاري، المغازي: 4351 ، صحيح مسلم، الزكاة: 1064 )

مجھے کسی کے دل ٹٹولنے یا پیٹ چیرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔

مندرجہ بالا کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرسوال میں مذکورہ شخص صدق دل سےاسلام قبول کرتا ہے، پانچ وقت کی نماز کی پابندی کرتا ہےاور ایسا کوئی کام نہیں کرتا جواسے دائرہ اسلام سے خارج کر دے تو آپ کی بیٹی کا  اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔ ممکن ہے وہ شخص شروع میں شادی کرنے کی غرض سے اسلام قبول کر لے بعد میں وہ بہت اچھا مسلمان بن جائے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتوی کمیٹی

01. فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

02. فضیلۃ الشیخ عبد الخالق حفظہ اللہ

ماخذ:محدث فتویٰ کمیٹی