سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

اگر قبلے کی سمت معلوم نہ ہو رہی ہو تو کیا کیا جائے گا؟

  • 4999
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 218

سوال

اگر قبلہ کی جہت معلوم نہ ہو اور کوئی موجود بھی نہ ہوں جس سے قبلہ کی سمت کا پتہ لگایا جا سکے تو نماز کس طرف منہ کر کے پڑھی جائے گی؟ قرآن مجید اور احادیث مبارک کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بلاشبہ نماز میں قبلہ رخ ہونا نماز کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے ،  اس لیے نمازی کے لیے ضروری ہے کہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھے اور قبلے کی سمت معلوم کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے۔ اگر کسی آدمی سے قبلے کی سمت کی آگاہی مل سکتی ہے تو اس سے رہنمائی لے، اگر کوئی انسان موجود نہیں ہے تو  جدید آلات سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔
لیکن اگر وہ کسی ایسی جگہ پر ہے جہاں کسی بھی ممکنہ طریقہ سے قبلے کی سمت معلوم نہیں ہو سکتی اور نماز کا وقت بھی ختم ہو رہا ہے تو اپنے اجتہاد اور کوشش سے قبلے کی سمت معلوم کر کے نماز پڑھ لے گا کیونکہ اس وقت وہ یہی کر سکتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے :

فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (التغابن: 16)

سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔
اور فرمایا:
وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (البقرة: 115)
اور اللہ ہی کے لیے مشرق ومغرب ہے، تو تم جس طرف رخ کرو، سو وہیں اللہ کا چہرہ ہے، بے شک اللہ وسعت والا ، سب کچھ جاننے والا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ (صحيح البخاري، الاعتصام بالكتاب والسنة: 7288) 
جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو رک جاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز کی بجا آوری (تعمیل) کا حکم دوں تو اپنی طاقت کے مطابق اسے بجالاؤ۔

والله أعلم بالصواب

محدث فتوى کمیٹی

01. فضیلۃالشیخ جاويد اقبال سيالكوٹی حفظہ اللہ
02. فضیلۃالشیخ عبد الخالق حفظہ اللہ

ماخذ:محدث فتویٰ کمیٹی