الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
وہ اوراق جن پر قرآنی آیات لکھی ہوئی ہوں انہیں بے حرمتی سے بچانے کے لیے پاکیزہ زمین میں دفن کر دیا جائے یا جلا دیا جائے۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے صحف سے منقول قرآن کے علاوہ ہر صحیفے یا مصحف میں جو قرآن تھا، اُسے جلانے کا حکم صادر فرمایا تھا۔ (صحیح البخاری، كتاب فضائل القرآن: 4987)
شارح بخاری امام ابوالحسن ابن بطال رحمہ اللہ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اس حدیث سے یہ مسئلہ سمجھ آتا ہے کہ ان کتابوں کو جلانا جائز ہے، جن میں اللہ عزوجل کا اسم گرامی ہو۔ ایسا کرنے میں ان کی عزت و تکریم ہے، یعنی بجائے اس کے کہ قدموں کے نیچے روندے جائیں اور ان کی بےادبی ہو، بہتر ہے ان کو جلا دیا جائے۔
امام طاؤس اور امام عروہ رحمہما اللہ کے پاس جب اللہ کے نام والے کتب ورسائل جمع ہو جاتے تو وہ انہیں جلا ڈالتے تھے۔ (دیکھیں : فتح الباری، جلد نمبر9، صفحہ نمبر 21)
والله أعلم بالصواب.