الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
امام اور مقتدی کی نیت میں اختلاف ہو سکتا ہے، اگر امام فرض نماز پڑھا رہا ہو، تو اس کی اقتدا میں نفل نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ ایسے ہی اگر امام کی نماز نفل ہو، تو اس کی اقتدا میں فرض نماز پڑھنا جائز ہے۔
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ’’تمھارا کیا حال ہو گا جب تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے یا نماز کو اس کے وقت سے ختم کر دیں گے؟‘‘ میں نے عرض کیا تو آپﷺ مجھے (اس کے بارے میں) کیا حکم دیتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’تم اپنے وقت پر نماز پڑھ لینا اگر تمھیں ان کے ساتھ (بھی) نماز مل جائے تو پڑھ لینا، وہ تمھارے لیےنفل ہو جائے گی۔ (صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: 648)
سيدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھا کرتے تھے، پھر اپنی قوم میں آ کر یہی نماز ان کو پڑھاتے تھے۔ (صحیح مسلم، كتاب الصلاة: 465)
اگر امام فرض نماز پڑھا رہا ہو، مقتدی کوئی دوسری فرض نماز پڑھنا چاہتا ہو، جیسے امام عصر کی نماز پڑھا رہا ہو اور مقتدی ظہر کی نماز پڑھنا چاہتا ہو، تو یہ جائز ہے، کیونکہ دونوں نمازوں کی رکعات کی تعداد برابر ہے اور امام و مقتدی کی نیت میں فرق ہو سکتا ہے۔
والله أعلم بالصواب.