سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
حق مہر میں زیور یا نقدی کے بجائے حج یا عمرہ مقرر کرنا
  • 4353
  • تاریخ اشاعت : 2023-12-21
  • مشاہدات : 13

سوال

اگر زوجہ حق مہر میں نقدی زیور یا جائیداد کے بجائے عمرہ یا حج ادا کرنے کا کہے، تو کیا یہ شرعی طور پر جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو نکاح نامہ میں اس کا ذکر کیسے ہوگا؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حق مہر عورت کا حق ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا۔ (النساء: 4)
اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دو، پھر اگر وہ اس میں سے کوئی چیز تمھارے لیے چھوڑنے پر دل سے خوش ہو جائیں تو اسے کھالو، اس حال میں کہ مزے دار خوشگوار ہے۔

اگر عورت حق مہر میں نقدی یا زیور وغیرہ لینے کی بجائے حج یا عمرہ کروانا بطور حق مہر کے مطالبہ کرے تو جائز ہے، سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی کے پاس بطور حق مہر دینے کےلیے کچھ بھی نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے قرآن کتنا یاد ہے؟ اس نے کہا : کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ۔ (صحيح البخاری، النكاح: 5132)
میں نے اس قرآن کے بدلے جو تجھے یاد ہے اس کا نکاح تجھ سے کر دیا ہے۔ (یعنی جو تجھے سورتیں یاد ہیں تو اسے سکھا دینا، یہی تیرا حق مہر ہے)

نکاح نامہ میں جہاں حق مہر کا خانہ ہوگا وہاں بطور حق مہر حج یا عمرہ لکھ دیا جائے گا۔

والله أعلم بالصواب

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے