الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی ساری زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارے۔ شریعت نے کسی انسان کے فوت ہونے کے بعد اس کی جائیداد کو ورثاء میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے جائیداد کی تقسیم جتنی جلدی ممکن ہو سکے کر دینی چاہیے تاکہ لڑائی جھگڑوں اور حق تلفی سے بچا جا سکے۔
آپ کے سوال سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کے بھائی نے 16 لاکھ روپے اس ارادے سے دیے تھے کہ وہ مکان اتنا اس کی ملکیت ہو گا جتنے کی قیمت 16 لاکھ روپے بنتی ہے۔ باقی کے 6 لاکھ روپے آپ کے والد صاحب نے دیے تھے اتنے حصے کے مالک وہ ہوں گے۔
آپ کے والد صاحب کا ارادہ تھا کہ وہ اس مکان کو سب سے چھوٹے بیٹے (جس نے مکان کی قیمت میں کوئی رقم ادا نہیں کی) اور اس سے بڑے (جس نے 16 لاکھ روپے ادا کیے ہیں) کے نام کریں گے، اس حوالے سے عرض ہے کہ انسان اولاد کو اپنی زندگی میں جو مال دیتا ہے وہ عطیہ اور گفٹ ہوتا ہے، اور اولاد کو گفٹ دیتے وقت ان میں برابری کرنا ضروری ہے جیسا کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کچھ مال دیا تو میری ماں نے کہا کہ میں اس وقت تک خوش نہیں ہوں گی جب تک آپ (بشیر رضی اللہ عنہ) اس مال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لیں؟ میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو گواہ بنائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِكُمْ (صحيح البخاري، الهبة وفضلها والتحريض عليها: 2587، صحيح مسلم، الهبات: 1623)
کیا تو نے اپنی ساری اولاد کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا ہے؟ (یعنی تو نے سب کو یہ مال دیا ہے)، تو میرے والد نے کہا : نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ سے ڈر جاؤ (تقوی اختیار کرو) اور اپنی اولاد کے مابین عدل کرو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : میرے باپ نے مجھ سے وہ گفٹ واپس لے لیا۔
بعض احادیث میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بشیر رضی اللہ عنہ سے کہا:
أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟ قَالَ: بَلَى. قَالَ:فَلَا إِذًا (الأدب المفرد:69). (صحيح)
کیا تجھے اچھا نہیں لگتا کہ وہ ( تيری اولاد) تیرے ساتھ حسن سلوک میں بھی برابر ہوں؟ تو انہوں نے کہا: بالکل، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ایسا نہ کر۔
اگر باپ اپنی اولاد میں سے کسی ایک بیٹے یا بیٹی کو ان کی تنگ دستی یا کسی اور معقول وجہ کی بنا پر کوئی چیز عطیہ کرنا چاہتا ہے تو باقی تمام اولاد کی دلی طور رضا مندی اور خوشی ضروری ہے، اگر وہ خوشی خوشی اس کام کی اجازت دے دیں تو یہ جائز ہے ورنہ سب میں برابری ضروری ہے۔
چونکہ آپ کے والد محترم وفات پا چکے ہیں، گھر کی قیمت میں 6 لاکھ روپے انہوں نے ادا کیے تھے، اسی حساب سے وہ گھر کے مالک تھے، یعنی گھر کے 27.27 حصے کے مالک آپ کے والد محترم تھے ، باقی 72.73 حصے کا مالک وہ بھائی ہے جس نے گھر کی قیمت سے 16 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔
گھر کے 27.27 حصے کے مالک آپ کے والد صاحب تھے۔ ان کی وفات کے بعد یہ حصہ ان کا ترکہ شمار ہو گا اور تمام ورثاء میں شریعت کے طے کردہ حصے کے مطابق تقسیم ہو گا۔
گھر کے27.27 حصے میں سے میت کی بیوی (والدہ) پانچ بیٹے اور دو بیٹیوں کو حصہ ملے گا۔
یاد رہے کہ اس 27.27 حصے میں آپ کے اس بھائی کا بھی حصہ ہے جس نے مکان کی قیمت میں 16 لاکھ روپے ادا کیے تھے، کیوں کہ یہ اس کے والد کی جائیداد ہے اسے بھی اس جائیداد سے حصہ ملے گا۔
والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنا واجب ہے ، وہ اپنی خوشی سے جس گھر میں ،جس بیٹے کے پاس رہنا چاہیں رہ سکتیں ہیں۔ تمام اولاد پر والدہ کے ساتھ اچھا رویہ رکھنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا واجب ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی آیا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: تیری ماں، اس نے کہا : پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: تیری ماں، اس نے کہا : پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: تیری ماں، اس نے کہا : پھر کون ہے؟ فرمایا: پھر تمہارا والد۔ مسلم، البر والصلة والآداب: 2548)
اگر آپ باپ کی جائیدا د سے حصہ نہیں لینا چاہتے اور اپنا حصہ دونوں بھائیوں کو دینا چاہتے ہیں تو یہ آپ کا ان پر احسان ہے اور اللہ تعالی احسان کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ چونکہ والد کی وفات کے بعد آپ کا بھی گھر کے 27.27 میں سے حصہ ہے ، آپ اپنی زندگی میں ہی اپنا حصہ دونوں بھائیوں کو دے سکتے ہیں۔
لیکن آپ اپنے بھائیوں کو حصہ دیتے وقت دو گواہ بھی بنائیں، اسلام نے حکم دیا کہ جب بھی کوئی معاملہ کیا جائے تو دو گواہ بنا لیے جائیں تاکہ بعد میں اگر کسی قسم کا اختلاف پیدا ہو جائے تو گواہی موجود ہونے کی وجہ سے اس اختلاف کو باآسانی ختم کیا جاسکے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى (البقرة: 282)
اور اپنے مردوں میں سے دو گواہوں کو گواہ بنا لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان لوگوں میں سے جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کرتے ہو (اس لیے) کہ دونوں میں ایک بھول جائے تو ان میں سے ایک دوسری کو یاد دلادے۔
والله أعلم بالصواب
محدث فتویٰ کمیٹی