الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ نکاح واقع نہیں ہوا ہے، ان کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی اور عدت پوری ہونے کے بعد تجدید نکاح کیا جائے گا۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے زاذان کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے انہوں نے اس عور ت کے بارے میں یہ فیصلہ کیا جس نے اپنی عدت میں نکاح کر لیا کہ ان دونوں میں جدائی کروائی جائے اس عورت کو (دوسرے خاوند سے) مہر ملے گا کیوں کہ اس نے اس کی عصمت کو اپنے لیے حلال کیا پھر وہ پہلے خاوند کی باقی ماندہ عدت پوری کرے پھر دوسرے خاوند کی عدت گزارے۔
(امام دارقطنی اور امام بیہقی رحمۃ اللہ علیھما نے ابن جریج سے حدیث روایت کی ہے انھوں نے عطا سے اور عطا نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے)
مزید تفصیل کے لئے درج ذیل لنک پر کلک کریں:
https://urdufatwa.com/view/1/22976
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب