الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
كسى شخص كا اپنى بيوى كو يہ كہنا كہ اگر تو میری اجازت کے بغیر گئی تو تجھے طلاق، اوراس كی نیت بھی طلاق دینے کی ہو، تو جب بیوی اس كی اجازت کے بغیر جائے گی، اسے ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ اگر خاوند عورت کے باہر جانے سےپہلے اپنے الفاظ واپس لے لیتا ہےاور کہتا ہے کہ میں اپنے الفاظ سے رجوع کرتا ہوں، تو پھر عورت کے باہر جانے سے بھی طلاق واقع نہیں ہو گی۔
امام ابن تيمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أن يكون قصد إيقاع الطلاق عند الصفة. فهذا يقع به الطلاق إذا وجدت الصفة كما يقع المنجز عند عامة السلف والخلف (مجموع الفتاوى از ابن تيميه: جلد نمبر 33، صفحه نمبر 46)
اس کا (خاوند کا) ارادہ صفت کے وقت طلاق دینے کا ہو، تو سلف اور خلف كے تمام علماء کرام کے ہاں، جب بھی صفت پائی جائے گی، طلاق واقع ہو جائے گی، جیسا کہ موقع پر دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
ابن حزم رحمہ اللہ نے اس طلاق کے واقع ہونے پر علماء كرام كا اجماع نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:
وَاتَّفَقُوا أَن الطَّلَاق إلى أجل أَو بِصفة وَاقع ان وَافق وَقت طَلَاق (مراتب الإجماع از ابن حزم، صفحه نمبر72)
علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ طلاق جس کو وقت يا كسی صفت کےساتھ معلق کیا گيا ہو، واقع ہو جاتی ہے اگر وہ وقت طلاق کے مطابق ہو۔
سوال میں مذکور ہے کہ شوہر نے کہا: اگر تو میری اجازت کے بغیر گئی تو تجھے طلاق، پھر باہر نکل آیا، کسی نے ڈانٹا تو پھر اس نے کہا کہ اسے طلاق طلاق طلاق ہے۔’’اگر تو میری اجازت کے بغیر گئی تو تجھے طلاق ہے‘‘ یہ معلق طلاق ہے جس کی تفصیل اوپر بیان کر دی گئی ہے۔
1. البتہ جب شوہر گھر سے باہر آگیا تو کسی کے ڈانٹے پر اس نے کہا :’’ اسے طلاق طلاق طلاق ‘‘۔ چونکہ شوہر نے یہ طلاق طلاق طلاق کے الفاظ اس بات (کہ اگر تو میری اجازت کے بغیر گئی تو تجھے طلاق ہے) کے سیاق میں کہے ہیں ، تو اس صورت میں اس کی نیت کا اعتبار ہو گا اور فوری طلاق واقع نہیں ہوگی۔ جب وہ خود کہہ رہا ہے کہ میرا معلق والا خیال تھا، تو طلاق تب واقع ہو گی جب بیوی اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر جائے گی۔
لیکن یاد رہے! اگر کوئی انسان اکٹھی تین طلاقیں دے دے تو وہ ایک ہی شمار ہو گی، اور خاوند کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہو گا؛ کیوں کہ نکاح کے مضبوط بندھن کو شریعت نے یک لخت ختم نہیں کیا بلکہ تین طلاق کا سلسلہ اور پھر ان میں سے پہلی دو کے بعد سوچنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ گھر ٹوٹنے سے بچ جائے۔
عدت گزرنے کے بعد نئے سرے سے نکاح ہو سکتا ہے، جس میں ولی، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة. (صحيح مسلم، الطلاق: 1472).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلاق کےناجائز طریقے کی روک تھام کے لیے ایک سیاسی فیصلہ کیا تھا کہ جس نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں ہم اسے نافذ کر دیں گے، یہ وقتی سیاسی فیصلہ تھا، شرعی نہیں تھا۔ (حاشية الطحاوي على الدر المختار: 2/105).
والله أعلم بالصواب.