سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کوكہتا ہے کہ اگر تم اپنے ماں باپ کے گھر جاؤ، تو تمہیں طلاق
  • 2118
  • تاریخ اشاعت : 2024-12-17
  • مشاہدات : 507

سوال

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کوكہتا ہے کہ اگر تم اپنے ماں باپ کے گھر جاؤ، تو تمہیں طلاق اور اس كی نیت بھی طلاق دينے کی ہو اور قول سے اجازت بھی نہیں دیتا۔ تین ماہ بعد بیوی چلی جاتی ہے، تو کیا طلاق ہوجاے گی؟ اگر خود اجازت دے دیتا ہے، کہ اچھا اب تم جاسکتی ہو تو کیا پھر طلاق نہیں ہوگی؟ دونوں صورتوں کی وضاحت کردیجیے۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

كسى شخص كا اپنى بيوى كو يہ كہنا كہ اگر تم اپنے ماں باپ کے گھر جاؤ تو تمہیں طلاق، اوراس كی نیت بھی طلاق دینے کی ہو، تو جب بیوی اپنے ماں باپ کے گھر جائے گی، اسے ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

امام ابن تيمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

أن يكون قصد إيقاع الطلاق عند الصفة. فهذا يقع به الطلاق إذا وجدت الصفة كما يقع المنجز عند عامة السلف والخلف (مجموع الفتاوى از ابن تيميہ: جلد نمبر 33، صفحہ نمبر 46)

اس کا (خاوند کا) ارادہ  صفت کے وقت طلاق دینے کا ہو، تو سلف اور خلف كے تمام علماء کرام کے ہاں، جب بھی صفت پائی جائے گی، طلاق واقع  ہو جائے گی، جیسا کہ موقع پر فوری دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

ابن حزم رحمہ اللہ نے اس طلاق کے واقع ہونے  پر علماء كرام كا اجماع نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں:

وَاتَّفَقُوا أَن الطَّلَاق إلى أجل أَو بِصفة وَاقع ان وَافق وَقت طَلَاق (مراتب الإجماع از ابن حزم، صفحہ نمبر72)

علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ طلاق جس کو وقت يا كسی صفت کےساتھ  معلق کیا گيا ہو، واقع ہو جاتی ہے، اگر وہ وقت طلاق کے مطابق ہو۔

1. دوسری صورت میں، جب خاوند بيوی کو والدين كے گھر جانے کی اجازت دے دیتا ہے تو طلاق واقع نہیں ہو گی ، کیونکہ اس شرط کو ختم کر دینا خاوند کا حق ہے، جب بھی وہ ختم کر دے کوئی حرج نہیں ہے، كيونكہ بعض اوقات انسان سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اس کی بیوی کا اپنے والدین کے پاس جانا خرابی کاباعث ہو گا،  تو وہ اسے کہہ دیتا ہے کہ اگر تو اپنے والدین کےپاس گئی تو تجھے طلاق، پھر وہ اس سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اورشرط ختم کر دیتا ہے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے