سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
ايك شخص نے اکٹھی تین طلاقیں دیں، پھر پندرہ دن بعد دوبارہ اکٹھی تین طلاقیں دے دیں
  • 2077
  • تاریخ اشاعت : 2025-04-04
  • مشاہدات : 193

سوال

محمد عمران ولد محمد لطیف نے اپنی بیوی آمنہ بی بی ولد محمد علی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں، پھر پندرہ دن بعد دوبارہ اکٹھی تین طلاقیں دے دیں۔ کیا یہ طلاق ہو گئی ہے؟ کیا رجوع کا امکان ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہر گھر میں تھوڑی بہت رنجشیں، غلط فہمیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں، ان کو آپس میں مل بیٹھ کر حل کرنے اور سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک عقل مند انسان کو بالکل زیب نہیں دیتا کہ وہ ذ را سی بات پر اتنا غصے میں آجائے کہ منہ سےطلاق کا لفظ نکال کر خاوند اور بیوی کے مقدس رشتے کو ختم  کردے۔

اگر خاوند اور بیوی کا آپس میں کسی بات پر جھگڑا ہو جائے تواسے آپس میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، یا دونوں خاندانوں کے افراد مل کر اس پریشانی کا حل نکالیں۔

اسلام نے دو طلاقیں رجعی قرار دی ہیں، یعنی پہلی اوردوسری طلاق کے بعد انسان عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے، اور اگر عدت ختم ہو جائے، تو نئے سرے سے نکاح کر سکتا ہے۔ اس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے: 

ﱡالطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ﱠ. (البقرة: 229).

یہ طلاق (رجعی ) دو بار ہے، پھر یا تواچھے طریقے سے رکھ لینا ہے، یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔

تیسری طلاق کے بعد رجوع کا اختیار ختم ہو جاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡفَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﱠ (البقرة: 230).

پھراگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دےتو (پہلے) دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں رجوع کر لیں، اگر سمجھیں کہ اللہ کی حدیں قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، وہ انہیں ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہےجو جانتے ہیں‘‘۔

آپ نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیں، پھر بيوی کی عدت کے دوران پہلی طلاق کے  پندرہ دن بعد دوباره اکٹھی تین طلاقیں دیں ہیں۔ 

• پہلی مرتبہ اکٹھی تین طلاقیں دینے سے ایک طلاق واقع ہو چکی تھی۔ دوبارہ اکٹھی تین طلاقیں دینے سے دوسری طلاق بھی واقع ہو گئی۔ آپ کی دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ 

• آپ عدت کے دوران رجوع کر سکتے ہیں، اور اگرعدت ختم ہو جائے تو نئے سرے سے نکاح کر سکتے ہیں، اس میں ولی ، گواہ، حق مہر، عورت کی رضامندی ضروری ہے۔

• رجوع کرنے کے بعد آپ کے پاس صرف تیسری اور آخری  طلاق کا حق رہ جائے گا۔ اگر آپ اپنی بیوی کو تیسری طلاق بھی دیتے ہیں،  تو آپ کے پاس رجوع کا اختیار نہیں ہو گا اور وہ آپ سے جدا ہو جائے گی۔

 

واضح رہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں اکٹھی تین طلاقیں دینا حرام ہے۔  ایسا کرنے والے کو اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگنا چاہیے۔

لیکن اگر کوئی انسان اکٹھی تین طلاقیں دے دے تو وہ ایک ہی شمار ہوگی اور خاوند کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہے؛ کیوں کہ نکاح کے مضبوط بندھن کو شریعت نے  یک لخت ختم نہیں کیا، بلکہ تین طلاق کا سلسلہ اور پھر ان میں سے پہلی دو کے بعد  سوچنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا ہے تاکہ گھر ٹوٹنے سے بچ جائے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: 

كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَة. (صحيح مسلم، الطلاق: 1472).

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سال تک (اکٹھی) تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلاق کےناجائز طریقے کی روک تھام کے لیے ایک سیاسی فیصلہ کیا تھا کہ جس نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں  ہم اسے نافذ کر دیں گے، یہ وقتی سیاسی فیصلہ تھا،  شرعی نہیں تھا۔ (حاشية الطحاوي على الدر المختار: 2/105).

 

یاد رہے! وہ عورت جسے روٹین سے ماہواری آتی ہے اس کی عدت تین حیض ہے، یعنی طلاق کے بعد اگر عورت کو تین مرتبہ حیض آ جائے اور وہ تیسرے حیض سے پاک ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔ 

ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡوَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ﱠ. (البقرة: 228).

اور وہ عورتیں جنہیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظارمیں رکھیں۔

وہ عورت جس کو ماہواری آنا بند ہو گئی ہے، یا عمر کم ہونے کی وجہ سے ابھی آنا شروع ہی نہیں ہوئی ، اس کی عدت تین قمری مہینے ہیں۔ 

ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡوَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ﱠ . (الطلاق: 4).

اور وہ عورتیں جوتمہاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہےاور ان کی بھی جنہیں حیض نہیں آیا۔

اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ 

ارشاد باری تعالی ہے:

ﱡوَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ﱠ. (الطلاق: 4).

اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔

رجوع کا طریقہ کار:

خاوند بول کر بھی رجوع کر سکتا ہے کہ اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہے کہ میں رجوع کرتا ہوں  یا کسی دوسرے شخص کے  سامنے یہ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی، میں اس سے رجوع کرتا ہوں  ۔

اسی طرح اگر خاوند رجوع کی نیت سے اپنی بیوی سے قربت اختیار کرے تو بھی رجوع ہو جائے گا۔ 

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے