الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
صحیح قول کے مطابق انسان کا مادہ منویہ پاک ہے۔
سيده عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْكًا فَيُصَلِّي فِيهِ (صحيح مسلم، الطهارة: 288)
میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ میں اسے (مادہ منویہ کو) رسول اللہ ﷺ کےکپڑے سے اچھی طرح کھرچتی تھی، پھر آپﷺ اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے
سيده عائشہ رضی اللہ عنہا کا کھرچنے پر اکتفا کرنا دلالت کرتا ہے کہ مادہ منویہ نجس نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم کے کپڑوں اور بدن پر احتلام کی صورت میں مادہ منویہ لگ جایا کرتا تھا، اگر یہ ناپاک ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم استنجاکی طرح اسے بھی دھونے کا حکم دیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کوئی بات منقول نہیں ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ مادہ منویہ کے لگ جانے سے دھونا واجب نہیں ہے۔ (دیکھیں : مجموع الفتاوی از ابن تیمیہ ، جلد نمبر : 21، صفحہ نمبر 604)
مذی نجس ہے ، لیکن چونکہ بوقت شہوت مخصوص حالت میں اس کاخروج عموما ہوتا رہتا ہے اس لیےشریعت نے اس سے طہارت حاصل کرنے میں تخفیف کی ہے کہ جس جگہ کپڑوں پر مذی لگی ہو وہاں چھینٹے مارنا کافی ہو گا۔
سيدنا سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا، میں اس کی وجہ سے کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا اور اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’اس کے لیےتمہیں وضو کافی ہے‘‘، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ کپڑے میں لگ جائے تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا:
يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهِ ثَوْبَكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ مِنْهُ (سنن ترمذی، أبواب الطهارة: 115)
ایک چلو پانی لے اور اسے کپڑے پر جہاں جہاں دیکھے کہ وہ لگی ہے چھڑک لے یہ تمہارے لیےکافی ہوگا۔
آپ کا یہ کہنا کہ’’منی سے پہلے مذی کا نکلنا لازمی اور حتمی ہوتا ہے‘‘ درست نہیں ہے، کیونکہ منی کے نکلنے اور اس سے پہلے مذی کے نکلنے کے درمیان کوئی لازمی تعلق نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کی منی بھی جماع ہی سے ہوتی تھی کیونکہ انبیاء کو احتلام نہیں ہوتا، اور یہی وہ منی ہے جس کے بارے میں احادیث میں اسے کھرچ کر صاف کر نے کا ذکر آیا ہے۔
امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَمَنْ قَالَ إِنَّ الْمَنِيَّ لَا يَسْلَمُ مِنَ الْمَذْيِ فَيَتَنَجَّسُ بِهِ لَمْ يُصِبْ لِأَنَّ الشَّهْوَةَ إِذَا اشْتَدَّتْ خَرَجَ الْمَنِيُّ دُونَ الْمَذْيِ وَالْبَوْلِ كَحَالَةِ الِاحْتِلَامِ (فتح الباری از ابن حجر، جلد 1، ص333)
جو شخص یہ کہتا ہے کہ منی مذی سے خالی نہیں ہوتی (یعنی منی سے پہلے مذی لازمی نکلتی ہے)، اس لیے وہ اس کے لگنے سے ناپاک ہو جاتی ہے، اس کی بات درست نہیں ہے ؛ کیونکہ جب شہوت شدت اختیار کر لیتی ہے تو منی مذی اور پیشاب کے بغیر ہی خارج ہو جاتی ہے، جیسا کہ احتلام کی حالت میں ہوتا ہے۔
اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ منی سے پہلے مذی لازمی نکلتی ہے تو نکلنے والی مذی بہت تھوڑی مقدار میں ہوتی ہے، جو منی کے ساتھ مل کر اس میں ختم ہو جاتی ہے؛ اس کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا اور نہ ہی وہ جگہ ناپاک ہوتی ہے کیونکہ مذی ان نجاستوں میں سے ہے جن کی معمولی مقدار سے درگزر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب وہ منی کے ساتھ مل جائے جو پاک ہے تو درگزر کیا جائے گا۔Bottom of Form
اگر خاوند کے بیوی سے بوس وکنار کے دوران مذی خارج ہو جائے تو اس کو دھونا ضروری ہو گا جیسا کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکور ہے۔
والله أعلم بالصواب.