سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
والدین کی طرف سے عمرے کی نیت کرنا
  • 1987
  • تاریخ اشاعت : 2026-10-10
  • مشاہدات : 116

سوال

کیا اپنے والدین کی طرف سے عمرہ کی نیت کر سکتے ہیں؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر والدین زندہ ہیں تو ان کی طرف سے عمرہ یا حج (چاہے فرضی ہو یا نفلی) اس صورت میں ہو سکتا ہے جب وہ خود (بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے) اپنی ساری زندگی میں حج یا عمرہ ادا کرنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں۔ اگر وہ فی الوقت بیمار ہیں، لیکن تندرست ہونے کا امکان ہے تو وہ تندرست ہو کر خود حج یا عمرہ  اداکریں گے، اولاد  کا ان کی طرف سے حج یا عمرہ ادا  کرنا جائز نہیں ہے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر خثعم قبیلہ کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا:

إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لاَ يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ (صحيح البخاري، الحج: 1513، صحيح مسلم، الحج: 1334)

اللہ کے رسول اللہ ﷺ !اللہ تعالیٰ کا فریضہ حج جو اس کے بندوں پر عائد ہے، اس نے میرے بوڑھے باپ کو پالیا ہے مگر وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟آپ نے فرمایا: ’’ہاں!‘‘ ۔

مردہ شخص کی طرف سے حج کرنا:

اگر والدین پر حج فرض ہو چکا تھا، لیکن انہوں نے سستی کرتے ہوئے اپنی زندگی میں حج  نہیں ادا کیا، تو ان کی طرف سے حج نہیں ادا کیا جائے گا کیونکہ ان کی طرف سے حج ادا کرنا اسے فائدہ نہیں دے گا کیونکہ انہوں نےجان بوجھ کر سستی کی ہے اور اس فریضہ کو اپنی زندگی میں ادا نہیں کیا جس کا ادا کرنا ان پر فوری واجب تھا۔

اگر ان کے پاس اپنی زندگی میں حج کی استطاعت نہیں تھی یا استطاعت تھی لیکن وہ بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے خود حج نہیں ادا کر سکے تو ان کی طرف سے حج کرنا افضل اور اچھا عمل ہے۔ اس کے ورثاء خصوصا اولاد کو چاہیے کہ اگر وہ  ان کی طرف سے حج کر سکتے تو  ضرور کریں ۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کہتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا:

لبيك عن شُبْرُمَةَ، قال: "من شُبْرُمَة؟ " قال: أخٌ لي، أو قريبٌ لي، قال: "حججتَ عن نفسِك؟ " قال: لا، قال: "حج عَنْ نفسِكَ ثم حُجَّ عن شُبْرَمَة (سنن أبي داود، المناسك: 1811، سنن ابن ماجه، المناسك: 2903)(صحيح)

(لبيك عن شبرمة) ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ” شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا قریبی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنی طرف سے حج کر لیا ہے؟“ اس نے کہا، نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(پہلے) اپنی طرف سے حج کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے کرنا۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے