سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
لفظ ’’ سفاحة‘‘ کا مفہوم
  • 1984
  • تاریخ اشاعت : 2026-07-02
  • مشاہدات : 87

سوال

قرآن مجید میں’’ سفاحة‘‘ لفظ استعمال ہوا ہے، اس کے معنی کی وضاحت کر دیں ۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن مجید میں سَفَاهَة  لفظ سورہ اعراف میں آیا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ (66) قَالَ يَاقَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الأعراف:66-67)

اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جنھوں نے کفرکیا، کہا بے شک ہم یقینا تجھے بہت بڑی بے وقوفی میں (مبتلا) دیکھ رہے ہیں اور بے شک ہم یقینا تجھے جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔ اس نے کہا اے میری قوم! مجھ میں کوئی بے وقوفی نہیں اور لیکن میں سارے جہانوں کے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔

ان آیات سے پہلے قوم عاد کا ذکر ہے۔ اللہ تعالی نے ان کی طرف ہود علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا، انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی تو انہوں نے بجائے توحید اختیار کرنے کے ہود علیہ السلام کو نعوذ باللہ بیوہ قوف کہا۔ ان کے نزدیک آباؤ  اجداد کی تقلید میں شرک کرنا اور دوسری خرافات اختیار کرنا عین عقل مندی اور اس کی مخالفت بے وقوفی تھی۔

والله أعلم بالصواب.

.

تبصرے