الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بیوی کو چاہیے کہ اچھے اخلاق کے ساتھ اپنے خاوند کو تقوی اختیار کرنے اور اللہ سے ڈرنے کی ترغیب دے۔ اسے سمجھائے کہ قیامت کے روز انسان کو اپنے کمائے ہوئے مال کا حساب دینا ہو گا۔ اسے یہ احساس بھی دلائے کہ کہ اللہ تعالی حرام کمانے والے کی دعا بھی قبول نہیں کرتے۔
1. البتہ اگر حرام کمانے والا شخص اپنی حرام کمائی سے اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہے، تو بیوی پر کوئی گناہ نہیں ہے؛ کیونکہ بیوی اپنا حق لے رہی ہے۔ حرام کمانے کا گناہ صرف اسی شخص پر ہو گا جس نے حرام کمایا ہے۔
رسول اللہ ﷺ ایک دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے، جبکہ (وہاں) آگ پر ہانڈی ابل رہی تھی۔ آپ نے دوپہر کا کھانا طلب فرمایا تو روٹی اور گھر میں موجود سالن پیش کر دیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں گوشت دیکھ رہا ہوں؟“ اہل خانہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ گوشت ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا اس نے وہ ہمیں بطور ہدیہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
هُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا، وَهَدِيَّةٌ لَنَا (صحيح البخاري، كتاب الأطعمة: 5430)
(ٹھیک ہے) وہ اس (بریرہ) پر صدقہ تھا اور ہمارے لیے (بریرہ کی طرف سے) ہدیہ ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ گوشت تناول فرمایا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر صدقے کا مال کھانا حرام تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بطور صدقہ نہیں لیا، بلکہ بطور تحفہ اور ہدیہ لیا ہے۔
یہودی سودی لین دین اور حرام کھانے میں مشہور تھے، اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہودی آدمی سے تحفہ بھی قبول کیا، ان کا کھانا بھی کھایا، ان کے ساتھ لین دین بھی كيا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان سے حلال طریقے سے لیا كرتے تھے۔ لہذا جب صحیح طریقے سے کوئی شخص کسی چیز کا مالک بن جائے، توجائز اور درست ہے۔
والله أعلم بالصواب.