سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
نمازوں کے اوقات
  • 1853
  • تاریخ اشاعت : 2025-03-19
  • مشاہدات : 455

سوال

اہل حدیث حضرات جیسے ہی ظہر کی نماز قضا ہوتی ہے، اس کے پندرہ منٹ بعد نماز عصر ادا کرتے ہیں، اس کی دلیل کیا ہے؟ برائے مہربانی احادیث سے جواب دیجئے۔

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ ﷺ نے نمازوں کے اوقات  تفصيل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بيان كرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ (صحیح مسلم، كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ : 612)

ظہر کا وقت (شروع ہوتا ہے) جب سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو (جانے تک)، جب تک عصر کا وقت نہیں ہو جاتا (رہتا ہے) اور عصر کا وقت (ہے) جب تک سورج زرد نہ ہو جائے اور مغر ب کا وقت (ہے) جب تک سرخی غائب نہ ہو جائے اور عشاء کی نماز کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک (ہے) جب تک سورج طلوع نہیں ہوتا، جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔

1. ہر مسلمان کو رسول اللہ ﷺ  کے بیان کردہ اوقات کے مطابق نماز پڑھنی چاہیے۔

والله أعلم بالصواب.

محدث فتویٰ کمیٹی

تبصرے