الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر عورت پہننے کے لیے سونے اور چاندی کا زیور بنا لے تو کیا اس میں زکاۃ ہو گی؟ اس بارے میں علماء کی دو مشہور آراء ہیں:
پہلی رائے:
سونے اور چاندی کے زیورات میں زکاۃ نہیں ہے، یہ ابن عمر، جابر، عائشہ رضی اللہ عنہم اورجمہور علماء کرام کی رائے ہے۔
دلیل:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَيْسَ فِي الحُلِيِّ زَكَاةٌ (ارواء الغلیل: 817)
سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی یتیم بھتیجیوں کی کفالت کرتی تھیں۔ ان بچیوں کے پاس زیور تھا سیدہ عائشہ اس کی زکاۃ نہیں ادا کرتی تھیں۔ (مصنف عبد الرزاق: 7052)
دوسری رائے:
سونے اور چاندی کے زیورات اگر نصاب کو پہنچتے ہیں تو سال گزرنے کے بعد ان کی زکاۃ ادا کرنا واجب ہے، یہ سعید بن مسیب، سعید بن جبیر، عطاء بن ابی رباح، ابراہیم نخعی، ابن حزم ، امام احمد کا ایک قول اور احناف کا قول ہے۔
دلیل:
ارشاد باری تعالی ہے:
وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ( التوبة: 34)
سيدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی اور بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپ ﷺ نے اس خاتون سے پوچھا ”کیا تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو؟“ اس نے کہا، نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تمہیں ان کے بدلے آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ چنانچہ اس عورت نے ان کو اتارا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے ڈال دیا اور کہنے لگی، یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ (سنن ابی داود، الزكاة: 1563) (صحیح)
عبداللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں کہ ہم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے۔ آپ نے دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں چاندی کی (موٹی موٹی) انگوٹھیاں ہیں تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا، میں نے انہیں آپ ﷺ کی خاطر زینت کے لیے پہنا ہے اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ میں نے کہا، نہیں، یا اسی طرح کی کوئی بات کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے جہنم میں لے جانے کے لیے یہی کافی ہے۔“ (سنن ابی داود، الزكاة: 1565) (صحیح)
1. دلائل میں غور کرنے کے بعد دوسری رائے قوی محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس کے دلائل قوی ہیں۔ پہلے قول کے دلائل میں ذکرہ کردہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔
والله أعلم بالصواب.
محدث فتوی کمیٹی