سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(478) مردار کھانا

  • 9956
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-11
  • مشاہدات : 497

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک سائل نے یہ سوال پوچھا ہے کہ کیا آبادی سے خالی صحراء میں مردار کھانا جائز ہے جبکہ ایک طویل مدت سے اسے کھانے کو کچھ ملا ہو‘ ہاں البتہ آبادی والے علاقوں تک پہنچنے کیلئے اس کے پاس پانی کافی ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر یہ شخص اضطراری کو پہنچ جائے اور نہ کھانے کی وجہ سے جان کو خطرہ ہو تو پھر اس کیلے مردار کھانا جائز ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿حُرِّ‌مَت عَلَيكُمُ المَيتَةُ وَالدَّمُ وَلَحمُ الخِنزيرِ‌ وَما أُهِلَّ لِغَيرِ‌ اللَّهِ بِهِ وَالمُنخَنِقَةُ وَالمَوقوذَةُ وَالمُتَرَ‌دِّيَةُ وَالنَّطيحَةُ وَما أَكَلَ السَّبُعُ إِلّا ما ذَكَّيتُم وَما ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَستَقسِموا بِالأَزلـٰمِ ۚ ذ‌ٰلِكُم فِسقٌ ۗ اليَومَ يَئِسَ الَّذينَ كَفَر‌وا مِن دينِكُم فَلا تَخشَوهُم وَاخشَونِ ۚ اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَ‌ضيتُ لَكُمُ الإِسلـٰمَ دينًا ۚ فَمَنِ اضطُرَّ‌ فى مَخمَصَةٍ غَيرَ‌ مُتَجانِفٍ لِإِثمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ‌ رَ‌حيمٌ ﴿٣﴾... سورة المائدة

’’تم پر مردار (طبعی موت مرا ہوا) جانور اور (بہتا ہوا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلاگھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے‘ یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں مگ رجس کو تم ذبح کر لو اور وہ جانو ربھی جو تھا (آستانے) پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پانسوں سے قسمت معلوم کرو۔ یہ سب گناہ (کے کام) ہیں ۔ آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں پس تم ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا‘ ہاں جو شخص بھوک سے لاچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص437

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ