سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(475) سور کے گوشت کی حرمت میں حکمت

  • 9953
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-11
  • مشاہدات : 1154

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں سویڈن میں مقیم ہوں‘ یہاں ہوٹلوں میں خنزیر کا گوشت پیش کیا جاتا ہے‘ بعض لوگوں نے مجھ سے پوچھا ہے کہ سور کا گوشت کیوں حرام کیا گیا ہے؟ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کی حرمت کی دلیل کیا ہے؟ امید ہے تسلی بخش جواب عطا فرمائیں گے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب (قرآن) میں متعدد مقامات پر سور کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے اور اس کی حرمت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حرمت کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:

﴿قُل لا أَجِدُ فى ما أوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّ‌مًا عَلىٰ طاعِمٍ يَطعَمُهُ إِلّا أَن يَكونَ مَيتَةً أَو دَمًا مَسفوحًا أَو لَحمَ خِنزيرٍ‌ فَإِنَّهُ رِ‌جسٌ... ﴿١٤٥﴾... سورة الانعام

’’(اے پیغمبر!) کہہ دیجئے کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مردار جانور ہو یا بہتا ہوا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے اس کی حرمت کی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ ناپاک ہے اور انسان کے دین اور بدن کے لئے نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق ہے اور وہ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اس کی مخلوقات میں کیا نقصانات اور منافع ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے سور کے گوشت کو حرام قرار دیتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ یہ ناپاک ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کی ناپاکی ہمارے دین اور جسم دونوں کیلئے نقصان دہ ہے لہٰذا جب بھی ہم سے کوئی سور کے گوشت کی حرمت کی حکمت کے بارے میں پوچھے تو ہمیں کہہ دینا چاہئے کہ یہ نجس ہے اور ہمارے بدن اور ہمارے دین کیلئے نقصان دہ ہے۔

یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس گندے جانور کی ایک عادت یہ بھی ہے کہ یہ بے غیرت ہے لہٰذا اسے کھانے والے انسان سے بھی اپنی محرمات اور اہل و عیال کے بارے میں غیرت سلب ہو جاتی ہے کیونکہ انسان اپنی غذا سے متاثر ہوتا ہے۔ غور فرمائیے کہ نبیﷺ نے کچلی والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے کے کھانے سے بھی تو اسی لیے منع فرمایا ہے کہ ان درندوں او رپرندوں کی طبیعت میں دشمنی اور چیرپھاڑ ودیعت کی گئی ہے اور خدشہ ہوتا ہے کہ انہیں کھانے والے انسان میں بھی یہ عادات نہ پیدا ہو جائیں کیونکہ انسان اپنی خوراک سے متاثر ہوتا ہے۔ پس یہی ہے وہ حکمت جس کی وجہ سے سور کے گوشت کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

یہ بات جب ہم اس انسان سے کہتے ہیں جوقرآن اور اللہ کے احکام پر ایمان نہیں رکھتا تو ہم مومن سے بھی یہ کہتے ہیں تاکہ اسے اطمینان قلب اور مزید ثابت حاصل ہو‘ ورنہ ایک مومن کیلئے تو بس اتنی بات ہی کافی ہے کہ اس سے یہ کہہ دیا جائے کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا حکم ہے اور یہ تمام حکمتوں سے بڑی حکمت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ وَلا مُؤمِنَةٍ إِذا قَضَى اللَّهُ وَرَ‌سولُهُ أَمرً‌ا أَن يَكونَ لَهُمُ الخِيَرَ‌ةُ مِن أَمرِ‌هِم... ﴿٣٦﴾... سورة الاحزاب

’’اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں‘‘۔

نیز فرمایا:

﴿إِنَّما كانَ قَولَ المُؤمِنينَ إِذا دُعوا إِلَى اللَّهِ وَرَ‌سولِهِ لِيَحكُمَ بَينَهُم أَن يَقولوا سَمِعنا وَأَطَعنا ۚ وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ﴿٥١ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ وَيَخشَ اللَّهَ وَيَتَّقهِ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الفائِزونَ ﴿٥٢﴾... سورة النور

’’مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں‘‘۔

حضرت عائشہؓ سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس کا کیا سبب ہے کہ حائضہ عورت کو روزوں کی قضاء تو دینا پڑتی ہے مگر نماز کی نہیں؟ تو انہوں نے اس کی علت یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ اللہ اوراس کے رسول ﷺ کا حکم ہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ جب ہمارے ایام ہوتے ہیں تو ہمیں ان کے روزوں کی قضاء کا تو حکم دیا جاتا تھا مگر نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔

مومن حکم شرعی کے بارے میں صرف اسی بات سے قانع ہو جاتا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا حکم ہے اور وہ اس حکم کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اس پر راضی ہو جاتا ہے لیکن جب ہم کسی ایسے شخص سے مخاطب ہوں جس کا ایمان کمزور ہو یا جس کا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہی نہ ہو تو پھر ہمارے لیے ضروری ہے کہ حکمت کو تلاش کریں اور اسے بیان کریں۔

اس دور میں جبکہ یقین کمزور اور بحث و جدال کی کثرت ہو گئی ہے‘ طالبعلم کو چاہئے کہ اسے ان شرعی حکمتوں کا علم ہو جن پر احکام مبنی ہوں‘ وہ بحث کرنے والے کو دلیل و تعلیل کے ساتھ قائل کر سکے اور اس کا کوئی شبہ باقی نہ رہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص434

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ