سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(441) اس پر کوئی کفارہ نہیں

  • 9919
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-10
  • مشاہدات : 445

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شیر خوار بچی کو اس کی ماں نے بستر پر لٹا دیا اور وہ خود دوسرے بچوں کے پاس جا کر بیٹھ گئی حتی کہ وہ بچے سو گئے ‘ اس پر نیند غالب آ گئی اور یہ بھی انہی کے پاس سو گئی اور جب میں گھر آیا اور یہ بچی بیدار ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ بہت زیادہ روئی ہے ‘ کثرت سے رونے کی وجہ سے اس کی صحت بہت متاثر ہوئی اور اسے چند دن ہسپتال میں بھی رکھا گیا مگر وہ فوت ہو گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں بچی کی ماں پر کفارہ لازم ہے یا نہیں ؟ اللہ تعالیٰ آپ کو اجر و ثواب عطا فرمائے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شیر خوار بچی کو اس کی ماں نے بستر پر لٹا دیا اور وہ خود دوسرے بچوں کے پاس جا کر بیٹھ گئی حتی کہ وہ بچے سو گئے ‘ اس پر نیند غالب آ گئی اور یہ بھی انہی کے پاس سو گئی اور جب میں گھر آیا اور یہ بچی بیدار ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ بہت زیادہ روئی ہے ‘ کثرت سے رونے کی وجہ سے اس کی صحت بہت متاثر ہوئی اور اسے چند دن ہسپتال میں بھی رکھا گیا مگر وہ فوت ہو گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں بچی کی ماں پر کفارہ لازم ہے یا نہیں ؟ اللہ تعالیٰ آپ کو اجر و ثواب عطا فرمائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر امر واقع اسی طرح جس طرح سائل نے ذکر کیا ہے تو بچی کی ماں پرکوئی کفارہ لازم نہیں ہے کیونکہ اس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو بچی کی موت کا سبب بنا ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص397

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ