السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرے والد گاڑی چلا رہے تھے کہ ان کا ایک دوسری گاڑی کے ساتھ ایکسیڈنٹ ہو گیا جس کی وجہ سے اس دوسری گاڑی کا ڈرائیور فوت ہو گیا ‘ ٹریفک پولیس کی رپورٹ کے مطابق تمام تر غلطی اس دوسرے ڈرائیور ہی کی تھی ‘ اس کے وارثوں نے دیت بھی معاف کر دی ہے ‘ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازے ‘ اب سوال یہ ہے کہ میرے والد پر مسلسل دو ماہ کے روزوں کا کفارہ ہے یا نہیں ؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
امر واقع اسی طرح جس طرح اے سائل آپ نے بیان کیا ہے تو اس صورت میں آپ کے والد پر کوئی کفارہ نہیں کیونکہ اس میں غلطی دوسرے کی ہے ‘ لہٰذا آپ کے والد کو قاتل نہیں کہا جا سکتا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب