السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں نے بعض لوگوں سے یہ سنا ہے کہ مرد کیلئے اپنی بیوی کا دودھ پینا حرام نہیں ہے تو اس کی وجہ سے میں قلق و اضطراب میں مبتلا ہوں کہ اگر یہ حرام نہیں تو کسی شخص کی بیوی اس کی رضاعی ماں کیسے ہو سکتی ہے امید ہے اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں گے ؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بڑی عمر کی رضاعت مؤثر نہیں ہوتی کیونکہ مؤثر رضاعت وہ ہے جو پانچ یا اس سے زیادہ رضعات پر مشتمل ہو اور یہ دودھ چھڑانے سے پہلے دو سال کی عمر میں ہو ‘ لہٰذا اگر کوئی ایسی صورت ہو کہ کسی نے کسی طرح اپنی بیوی کا دودھ پی لیا ہو تو وہ اس کا رضاعی بیٹا نہیں ہوگا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب