السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی کے بڑے بھائی نے اس کی بیوی کی ماں کی طرف سے بہن کے ساتھ ملکر دودھ پیا تھا ‘ کیا اس رضاعت کا اس کی بہن کے نکاح پر اثرے پڑیگا؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سائل کے بڑے بھائی کا اس کی بیوی کی ماں کی طرف سے بہن کے ساتھ ملکر دودھ پینے کا اس کی بیوی کے اس کے ساتھ نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑیگا کیونکہ اس کی بیوی اس کے بھائی کی رضاعی بہن ہونے کی وجہ سے اس پر حرام نہیں ہوگی ‘ ہاں البتہ وہ اس کے بھائی کیلئے حرام ہو گی بشرطیکہ دودھ پانچ یا اس سے زیادہ رضعات دو سال کی عمر کے اندر پیا ہو۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب