سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(366) شرعی عذر کے بغیر عدت اور سوگ مؤخر کرنا

  • 9843
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 1200

سوال

(366) شرعی عذر کے بغیر عدت اور سوگ مؤخر کرنا

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری عمر چالیس سال ہے ‘ میں شادی شدہ ہوں ‘ میرے پانچ بچے ہیں ‘ ۲۱- ۵- ۵۸۹۱  کو میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ‘ لیکن اپنے شوہر اور بچوں سے متعلق بعض ضروری کاموں کی وجہ سے میں عدت نہ گزار سکتی ‘ وفات کے چار ماہ بعد ‘ یعنی ۲۱- ۹- ۵۸۹۱سے میں نے عدت شروع کی اور ایک ماہ کے بعد ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے میں گھر سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئی۔ سوال یہ ہے کہ ایک ماہ عدت میں شمار ہو گا اور کیا شوہر کی فوات کے بعد چار ماہ بعد عدت گزارنا صحیح ہے یا نہیں ؟ یاد رہے مجھے بعض کاموں کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے کیونکہ کوئی اور شخص نہیں ہے جس پر میں گھر کے کاموں کے بارے میں اعتماد کر سکوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کا یہ کام حرام ہے ‘ کیونکہ عورت پر اسی وقت سے عدت اور سوگ ضروری ہے جب اسے شوہر کی وفات کا علم ہو کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُ‌ونَ أَزْوَاجًا يَتَرَ‌بَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْ‌بَعَةَ أَشْهُرٍ‌ وَعَشْرً‌ا...٢٣٤﴾... سورة البقرة

’’اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور عورتیں بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں چار مہنے اور دس دن تک اپنے آپ کو روکے رہیں۔‘‘

آپ کا چار ماہ کے بعد عدت کو شروع کرنا گناہ اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے ‘ اس میں سے صرف د س دن عدت شمار ہوں گے اور ان کے بعد والے دن عدت کے دن نہیں ہیں ‘ آپ کو الل تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ اور کثرت سے اعمال صالحہ کرنے چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اس گناہ کو معاف کر دے ‘ یاد رہے وقت ختم ہونے کے بعد عدت کی قضا نہیں ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

کتاب العده: جلد 3  صفحہ 346

محدث فتویٰ

تبصرے