سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(348) تیسری طلاق سے عورت اپنے شوہر کیلئے حرام ہو جاتی ہے

  • 9803
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-06
  • مشاہدات : 612

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک مرد نے اپنی بیوی کو طلاق دی ‘ پھر اپنے ملک سے باہر چلا گیا اور پردیس میں قریب ایک سال بسر کرنے کے بعد جب وہ واپس آیا تو اس عورت نے ابھی تک نکاح نہیں کیا تھا ‘ لہٰذا اس نے اس سے دوبارہ نکاح کر لیا اور وہی عورت اس کے پاس آ گئی حالانکہ اس نے عدت کے اندر رجوع نہیں کیا تھا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر امر واقع اسی طرح ہے جس طرح سائل نے ذکر کیا ہے تو یہ نکاح صحیح ہے بشرطیکہ ولی کی اجازت سے ‘ دو عادل گواہوں کی موجودگی میں اور عورت کی رضا مندی سے ہوا ہو ‘ کیونکہ ایک طلاق سے عورت اپنے شوہر پر حرام نہیں ہوتی ‘ اسی طرح وہ دو طلاقوں سے حرام نہیں ہوتی بلکہ تین طلاقوں سے حرام ہوتی ہے اور تین طلاقوں کی صورت میں وہ اپنے شوہر کیلئے حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ کسی اور سے شرح نکاح نہ کرے اور وہ اس سے مقاربت بھی کرے ‘ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿الطَّلَاقُ مَرَّ‌تَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُ‌وفٍ أَوْ تَسْرِ‌يحٌ بِإِحْسَانٍ...﴿٢٢٩﴾... سورة البقرة

‘’ طلاق جس کے بعد رجوع ہو سکتا ہے صرف دو بار ہے (یعنی جب دو دفعہ طلاق دے دی جائے تو پھر عورتوں کو یا تو بطریق شائستہ نکاح میں رہنے دینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا‘‘۔

اور فرمایا:

﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَ‌هُ... ﴿٢٣٠﴾... سورة البقرة

‘’ پھر اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کر لے اس پہلے شوہر پر حلال نہ ہوگی‘‘۔

تمام اہل علم کے نزدیک آخری طلاق سے مراد تیسری طلاق ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص326

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ