سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(341) رجعت اور اس کی شرائط کا حکم

  • 9796
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-04
  • مشاہدات : 1150

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک ادمی نے اپی بیوی کو طلاق سنت دی ‘ پھر اسے طلاق نامہ بھی دے دیا اور اب وہ رجوع کرنا چاہتا ہے کیا عورت کی رضا مندی کے بغیر جبر سے بھی رجوع ہو سکتا ہے یا رجوع عورت کی رضا مندی پر موقوف ہے ‘ کیا رجوع کیلئے کچھ شرائط بھی ہیں ‘ فتویٰ عطا فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر امر واقع اسی طرح ہے جس طرح ذکر کیا گیا ہے تو شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے بشرطیکہ وہ عورت عدت میں ہو اور دو عادل گواہ موجود ہوں خواجہ بیوی راضی ہو یا نہ ہو اور اگر عدت ختم ہو گئی ہو یا بیماری میں ہو اور یہ تیسری طلاق نہ ہو تو اسے عورت کی رضا مندی سے نئے نکاح اور نئے مہر کے ساتھ رجوع کا حق حاصل ہے اور دونوں صورت میں یہ ایک طلاق شمار ہو گی اور اگر یہ تیسری طلاق ہو تو پر یہ عورت اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک یہ کسی دوسرے شوہر سے شرعی نکاح نہ کرے اور وہ اس سے مقاربت بھی کر لے اور جب یہ دوسرا شوہر بھی اسے طلاق دے دے یا فوت ہو جائے تو پھر یہ پہلے شوہر کیلئے حلال ہو گی ‘ وہ عدت ختم ہونے کے بعد نئے عقد اور نئے مہر کے ساتھ عورت کی رضا مندی سے اس کے ساتھ شادی کر سکتا ہے ‘ حاملہ کی عدت وقع حمل ہے خواہ عورت مطلقہ ہو یا اس کا شورہ فوت شدہ ہو ‘ اس غیر حاملہ کی عدت جس کا شوہر فوت شدہ ہو چار ماہ دس دن ہے اور اگر مطلقہ ہو اور حیض آتا ہو تو عدت تین حیض ہے اور اگر بڑی عمر کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو یا حیض کی عمر سے چھوٹی ہو تو عدت تین ماہ ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص323

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ