سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(74) جمع شدہ نمازوں کے لیے تکبیر

  • 976
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-03
  • مشاہدات : 581

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جب انسان نماز ظہر اور عصر کو جمع کر کے ادا کرے تو کیا وہ ہر نماز کے لیے اقامت کہے اور کیا نوافل کے لیے بھی اقامت ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب انسان نماز ظہر اور عصر کو جمع کر کے ادا کرے تو کیا وہ ہر نماز کے لیے اقامت کہے اور کیا نوافل کے لیے بھی اقامت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

ہر نماز کے لیے اقامت ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے حج کی کیفیت کے بارے میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ  کی حدیث میں واردہواہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں آپ کی نمازوں کو جمع کر کے ادا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایاہے کہ:

« أقام فصلی  المغرب ، ثم أقام  فصلی العشاء  ولم يسبح بينهما» صحيح البخاری، الحج، باب من جمع بينهما ولم يتطوع، ح: ۱۶۷۳ وصحيح مسلم، الحج، باب الافاضة من عرفات، ح: ۱۲۸۵، ۲۸۱۔

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے مزدلفہ میں مغرب وعشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا فرمائیں، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اقامت فرمائی اور مغرب کی نماز ادا کی پھردوبارہ اقامت کہی اور عشاء کی نماز ادا کی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان تسبیحات کا وردنہیں فرمایا۔‘‘

نوافل کے لیے اقامت نہیں ہے۔

وباللہ التوفیق

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ