سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(256) میری بیوی بدخلق ہے، کیا اسے طلاق دے دوں؟

  • 9711
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-01
  • مشاہدات : 766

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری بیوی کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے بچوں پر لعنت بھیجتی ہے اور انہیں گالیاں دیتی ہے اور کبھی ہر چھوٹی بات کی وجہ سے انہیں مارنے بھی لگتی ہے میں نے اسے کئی بار سمجھایا ہے کہ اس برعادتت کو ترک کر دو تو وہ  جواب دیتی ہے کہ تونے ہی انہیں بگاڑا ہے جس کی وجہ سے وہ گمراہ ہو گئے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب بچے اپنی ماں کو ناپسند کرنے لگے ہیں بلکہ اس کی بات کو اب کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے اور اب انہیں صرف سب وشتم اور مارپیٹ ہی کا علم ہے، سوال یہ ہے کہ براہ کرم تفصیل سے بتائیں کہ دینی نقطہ نگاہ سے مجھے اس بیوی کے بارے میں کیا موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ اسے عبرت حاصل ہو، کیا میں طلاق دے کر اس سے دور ہو جائوں اور بچوں کو اس کے ساتھ ہی رہنے دوں یا کیا کروں؟ رہنمائی فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق بخشے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بچوں یا دوسرے لوگوں کو لعنت کرنا جو لعنت کے مستحق نہ ہوں کبیرہ گناہ ہے، نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ :

((لعن المؤمن كقتله )) صحيح البخاري)

’’مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے۔‘‘

نبی اکرمﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے:

((سباب المسلم فسوق وقتاله كفر )) ( صحيح البخاري)

’’مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔‘‘

نیز آپﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے:

((إن اللعانين لايكونون شهداء ولا شفعاء يوم القيامة )) ( صحيح مسلم )

’’ لعنت کرنے والے قیامت کے دن شہداء اور شفاعت کنندہ نہ بن سکیں گے۔‘‘

 لہٰذا اس عورت کے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے، بچوں کو گالیاں دینے سے اپنی زبان کو محفوظ رکھے اور ان کے لئے کثرت سے ہدایت اور اصلاح کی دعا کرے۔ آپ کے لئے بھی حکم شریعت یہ ہے کہ اسے ہمیشہ سمجھاتے رہیں، اولاد کو گیاں دینے سے منع کرتے رہیں اور اگر نصیحت اس کے لئے کارگر ثابت نہ تو اس انداز سے اس سے تعلقات ترک کر لیں جس کے بارے میں آپ کا یہ خیال ہو کہ یہ طریقہ مفید رہے گا، اس کے ساتھ ساتھ صبر بھی کریںاور اللہ تعالیٰ سے حصول ثواب کی امید بھی رکھیں اور طلاق دینے میں جلدی نہ کریں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں، آپ کو اور آپ کی بیوی کو ہدایت عطا فرمائے۔

شوہر کے لئے یہ واجب ہے کہ وہ اپنی بیوی کو بے راہ روی کے اسباب سے بچائے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص248

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ