سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(238) مہر کے بغیر نکاح

  • 9693
  • تاریخ اشاعت : 2014-02-01
  • مشاہدات : 538

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مسلمان کیلئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ کسی کو محض لوجہ اللہ دے دے اور مہر کا تعین نہ کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نکاح میں مال کا وجود ضروری ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَأُحِلَّ لَكُم ما وَر‌اءَ ذ‌ٰلِكُم أَن تَبتَغوا بِأَمو‌ٰلِكُم...٢٤﴾... سورة النساء

’’اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کر لو‘‘۔

اور حدیث سہل بن سعدؓ میں ہے جس کی صحت پر ائمہ کا اتفاق ہے کہ نبیﷺ نے اس شخص سے فرمایا تھا جس نے اس عورت سے شادی کرنا چاہی تھی جس نے اپنے آپ کو نبی اکرمﷺ کیلئے ہبہ کیا تھا:

 ((إلتمس ولو كان خاتما من حديد )) (صحيح البخاري )

’’مہر کیلئے کوئی چیز تلاش کرو خواہ وہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہو‘‘۔

اگر کوئی شخص مہر کے بغیر شادی کرے تو عورت کیلئے مہر مثل واجب ہوگا‘ یہ بھی جائز ہے کہ شادی کے لئے آدمی یہ مہر مقرر کرے کہ وہ اسے قرآن مجید کی کچھ سورتیں یا کچھ حدیثیں یا دیگر علوم نافعہ میں سے کچھ معلوم اشیاء سکھا دے گا‘ کیونکہ اس ہبہ کرنے والی عورت سے شادی کرنے والے کو جب کوئی مال نہ ملا تو نبیﷺ نے اس سے فرمایا تھا کہ ’’اسے قرآن مجید کی کچھ سورتیں سکھا دو‘‘ مہر عورت کا حق ہے‘ اگر عورت اپنے اس حق سے دستبردار ہو جائے اور وہ سلیم العقل ہو تو یہ جائز ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَءاتُوا النِّساءَ صَدُقـٰتِهِنَّ نِحلَةً...٤﴾... سورة النساء

’’اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو‘‘۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص202

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ