سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(192) رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں

  • 9647
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-29
  • مشاہدات : 481

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میری والدہ، میرے والد کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے ایک شخص کے نکاح میں تھیں جن سے ایک لڑکا بھی پیدا ہوا اور اس لڑکے کے ساتھ انہوں نے اپنی ایک بہن کو بھی دودھ پلایا اور رضاعت کا یہ سلسلہ تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہا، پھر میری والدہ اس شخص سے الک ہو گئیں  اور ااس سے میرے والد نے شادی کر لی۔ کیا ہم جو کہ اپنی والدہ کے اس دوسرے خاوند کے بیٹے ہیں، اپنی خالہ کی ان بیٹیوں سے شادی کر سکتے ہیں، جنہوں نے ہماری ماں کا دودھ پیا ہے یا نہیں کر سکتے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری والدہ، میرے والد کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے ایک شخص کے نکاح میں تھیں جن سے ایک لڑکا بھی پیدا ہوا اور اس لڑکے کے ساتھ انہوں نے اپنی ایک بہن کو بھی دودھ پلایا اور رضاعت کا یہ سلسلہ تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہا، پھر میری والدہ اس شخص سے الک ہو گئیں  اور ااس سے میرے والد نے شادی کر لی۔ کیا ہم جو کہ اپنی والدہ کے اس دوسرے خاوند کے بیٹے ہیں، اپنی خالہ کی ان بیٹیوں سے شادی کر سکتے ہیں، جنہوں نے ہماری ماں کا دودھ پیا ہے یا نہیں کر سکتے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تمہارے لئے اپنی مذکورہ خالہ کی بیٹیوں سے شادی کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ مذکورہ رضاعت کی وجہ سے وہ تمہاری بہن بن گئی ہے اور تم اس کی اولاد کے ماموں بن گئے ہو اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب )) ( صحيح البخاري)

’’ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہیں۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص160

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ