سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(176) حرمت میں خون کو دودھ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا

  • 9631
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-29
  • مشاہدات : 492

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کسی عورت کو اگر خون کی ضرورت ہو اور وہ کسی اجنبی شخص سے لیکر اسے دے دیا جائے، عورت کو شفاء حاصل ہو جائے اور وہ شخص اس سے شادی کرنا چاہیے تو کیا یہ جائز ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی عورت کو اگر خون کی ضرورت ہو اور وہ کسی اجنبی شخص سے لیکر اسے دے دیا جائے، عورت کو شفاء حاصل ہو جائے اور وہ شخص اس سے شادی کرنا چاہیے تو کیا یہ جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہاں انسان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اس عورت سے شادی کرے جسے اس کا خون دیا گیا ہو کیونکہ خون دودھ نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ اس سے وہ حرام ہو جائے گی، حرمت تو دودھ سے ثابت ہوتی ہے بشرطیکہ وہ دو سال کی عمر میں دودھ چھڑانے سے پہلے پیا ہو اور نبیﷺ نے فرمایا:

((يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب )) ( صحيح البخاري )

’’رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے وہیں جو نسب سے ہیں۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص152

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ