سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

خالہ سے زنا کرنے کے سبب اپنے نکاح کا حکم

  • 9620
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-29
  • مشاہدات : 1369

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر بھانجا اپنی خالہ سے زنا کر لے تو کیا خالہ کا اپنے شوہر سے نکاح ٹوٹ جائے گا ،اور اگر بھانجا بھی شادی شدہ ہو تو کیا اس کا اپنی بیوی سے نکاح ٹوٹ جائے گا ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

زنا کبیرہ گناہ اور ذلت آمیز عمل ہے۔یہ معاشرے کی تباہی و بربادی کا سبب ہے۔ اسی وجہ سے اسلام نے اس فعل قبیح و شنیع کے خلاف حدود مقرر کی ہیں۔ ماں ، بہن ،خالہ اور بیٹی کی عصمت ریزی زنا کی قباحت کو اور بڑھا دیتی ہے۔ محرمات ِ ابدیہ (جن عورتوں سے نکاح حرام ہے)سے زنا کرنااخلاقی پستی کی انتہا ہے۔ اس کی سزا تو عام عورتوں سے زنا کرنے سے بھی زیادہ ہونی چاہیے ۔ ایسے شخص کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ایسا کرنے والے شخص کو توبہ کرنی چاہئے اور اللہ تعالی سے کثرت کے ساتھ استغفار کرنا چاہئے۔

لیکن اگر کسی نے خالہ سے زنا جیسے جرم شنیع کا ارتکاب کیا ہو تو اس سے نکاح باطل نہیں ہوتا،نہ خالہ کا اور نہ ہی بھانجے کا ۔کیونکہ اصول یہی ہے کہ حرام عمل سے کوئی حلال کام حرام نہیں ہوتا ہے۔

نبی کریم نے فرمایا:

«لا يحرم الحرام الحلال»سنن ابن ماجہ، كتاب النكاح، باب لا يحرم الحرام الحلال،رقم الحدیث:2015

حرام کام کسی حلال کو حرام نہیں کرتا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ