سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(147) بے نماز سے شادی

  • 9587
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-22
  • مشاہدات : 610

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ایک قریبی رشتے دار نے مجھ سے میری بیٹی کا رشتہ طلب کیا ہے۔ وہ مجھ سے مالی حیثیت میں تو بہتر ہے لیکن وہ پکا شرابی ہے، برے لوگوں کے ساتھ اس کا میل جول ہے، نماز بہت کم یا بالکل نہیں پڑھتا اور ہمیشہ ویڈیو، ٹیلی ویژن اور آلات لہو و لعب سے شغل جاری رکھتا ہے جس کی وجہ سے مجھے اسے رشتہ دینے میں بہت حرج محسوس ہوتا ہے، امید ہے کہ آپ وضاحت فرمائیں گے کہ اس کے متعلق اسلام کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر واقعی آپ سے بیٹی کا رشتہ طلب کرنے والا شخص ایسا ہے تو اسے رشتہ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ بیٹی آپ کے پاس امانت ہے اور آپ پر واجب ہے کہ آپ اس کی شادی دینی و اخلاقی اعتبار سے کسی بہت ہی موزوں شخص سے کریں اور جو شخص نماز نہ پڑھتا ہو اسے کسی نمازی مسلمان خاتون کا رشتہ دینا جائز نہیں کیونکہ وہ اس کا کفو(برابر کا)  نہیں ہے کیونکہ ترک نماز تو کفراکبر ہے، اس لئے کہ نبیﷺ نے فرمایا ہے۔

((بين الرجل وبين  الشرك والكفر ترك الصلاة )) ( صحيح مسلم)

’’آدمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق ترک نماز کی وجہ سے ہے۔‘‘

نیز آپﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے:

((العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر )) ( جامع الترمذي)

’’ ہمارے اور ان کے مابین جو عہد ہے وہ نماز ہے، جو اسے ترک کردے گا وہ کافر ہے۔‘‘

اسی طرح کتاب و سنت  کے دیگر بہت سے دلائل سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ تارک نماز کافر ہے خواہ وہ نماز کی فرضیت کا انکار بھی نہ کرے، اس مسئلے میں علماء کا صحیح ترین قول یہی ہے اور اگر کوئی شخص نماز کے وجوب کا انکار یا اس کا مذاق اڑائے تو وہ مسلمانوں کے اجماع کے مطابق کفراکبر کا مرتکب ہے۔

جو شخص نشہ کرتا ہو اور نماز پڑھتا ہو تو اسے کافر قرار نہیں دیا جا سکتا بشرطیکہ وہ نشے کو حلال نہ سمجھتا ہو لیکن نشہ کرنا کبیرہ گناہ اور فسق ہے لہٰذا فسق کی وجہ سے بھی اسے رشتہ دینا جائز نہیں خواہ وہ نماز بھی پڑھتا ہو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی بیوی بچوں کو بھی اس جرم عظیم کا عادی بنا دے، ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی اصلاح احوال فرمائے، انہیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں اور انہیں خواہشات نفس اور شیطان کی اطاعت سے بچائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص124

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ