سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(112) آدمی کے لئے اپنی بیٹی کو بوسہ دینا جائز ہے

  • 9552
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-21
  • مشاہدات : 2712

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا آدمی کے لئے اپنی بیٹی کو بوسہ دینا جائز ہے جبکہ وہ بڑی ہو کر سن بلوغت سے تجاوز کر جائے، خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اور خواہ بوسہ رخسار پر ہو یا منہ پر اور اگر بیٹی باپ کو بوسہ دے تو پھر کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی اپنی چھوٹی یا بڑی بیٹی کو شہوت کے بغیر بوسہ دے اور اگر بچی بڑی ہو تو بوسہ رخسار پر ہونا چاہیے جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ سے ثابت ہے کہ انہوں نے اپنی لخت جگر حضرت عائشہؓ کے رخسار پر بوسہ دیا تھا۔

منہ پر بوسہ دینے سے جنسی شہوت کو تحریک ہوتی ہے لہٰذا زیادہ بہتر اور زیادہ محتاط بات یہ ہے کہ منہ پر بوسہ نہ دیا جائے، اسی طرح بیٹی بھی شہوت کے بغیر اپنے باپ کی ناک پر اس کے سر پر بوسہ دے سکتی ہے، شہوت کے ساتھ بوسہ سب کے لئے حرام ہے تاکہ فتنے کو ختم اور فحاشی کا سدباب کیا جا سکے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

کتاب النکاح : ج 3  صفحہ 92

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ